این اراو ان کی غلطی تھی، جو سیاسی ساتھیوں کی وجہ سےکرنا پڑی، قوم ان کو معاف کردے ۔ سابق صدر پرویز مشرف

این اراو ان کی غلطی تھی، جو سیاسی ساتھیوں کی وجہ سےکرنا پڑی، قوم ان کو معاف کردے ۔  سابق صدر پرویز مشرف

یہ بات پرویز مشرف نےلندن میں آل پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اور سیاست میں آنے کے اعلان کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔ انھوں نے کہا کہ این ار او کے تحت بے نظیر بھٹو نے ان سے ڈیل کی تھی کہ وہ دوہزار آٹھ کے انتخابات سے پہلے پاکستان نہیں آئیں گی ۔ ڈاکٹر عمران فاروق سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پرویز مشرف نے کہا کہ ان کی زندگی میں کھبی بھی عمران فاروق سے ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ قتل ہونے سے پہلے مسلم لیگ میں شامل ہونے کا اعلان کرنے والے تھے ۔ اس قسم کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خطرات سے نہیں ڈرتے ، جو بھی ہوجائے وہ آئندہ الیکشن سے قبل پاکستان میں موجود ہونگے۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں ڈکٹیٹر وردی میں ہو، سویلین بھی بدترین ڈکٹیٹرہوسکتا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے لندن میں ایک تقریب کے دوران سیاست میں آنے اور آل پاکستان مسلم لیگ کے باضابطہ قیام کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی ان کا خطاب نشر کیاگیا ۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام سے اپنی سیاسی جماعت کی حمایت چاہتے ہیں۔ اقتدار میں آکروہ ملک میں نیا معاشرتی نظام قائم کرینگے اور موجودہ ابتر صورتحال پر قابوپالیں گے۔ سابق صدرنے کہا کہ ان کے آخری دورمیں چند سیاسی غلطیاں ہوئیں جن پروہ پاکستان کے عوام سےمعذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اورآئندغلطیاں نہیں کریں گے۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ وہی ملک کو اس تاریکی سے نکال سکتے ہیں ، ان کی نو سال کی کارکردگی گواہ ہے کہ وہ پاکستان کوبہترین قیادت فراہم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ اب باتوں کا نہیں بلکہ عمل کا وقت ہے ۔ اس وقت عوام پریشان ہیں اوران کے پاس اپنا پیٹ بھرنے کے لئے کھانا نہیں ، ان کی جماعت بھوک ،غربت اور ناخواندگی کے خلاف جہاد کرے گی ۔ پرویز مشرف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے ۔ ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے شدت پسندی کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔