نیٹو سپلائی معاہدے پردستخط، شادی کے بعد نکاح والی بات ہے: لیاقت بلوچ

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ نیٹو سپلائی پہلے بحالی کے بعد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ، شادی کے بعد نکاح کے مترادف ہے ، نیٹو سپلائی کی بحالی زرداری کی شکاگو کانفرنس میں شرکت کے موقع پر ہی ہو گئی تھی لیکن قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا، جماعت اسلامی اور دفاع پاکستان کونسل کا موقف سچ ثابت ہوا جبکہ جے یو آئی اور ن لیگ سمیت کچھ جماعتیں سمجھتی تھیں کہ اب سپلائی بحال نہیں ہو گی ۔صدارتی انتخاب جس طرح ایوب خان اور مشرف کو راس نہیں آیا اسی طرح زرداری کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا ۔ ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ فوری طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں۔ بجلی بحران اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار صدر زرداری ہیں۔ عوام تنگ آمد بجنگ آمد کی بنیاد پر سڑکوں پر نکل آئے ہیں، حکومت قوم کو بتائے کہ بجلی کا سنگین بحران کیوں پیدا کیا گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے صحافیوں اور کالم نویسوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ توہین عدالت کا نیا قانون کالا اور امتیازی قانون ہے۔ حکمران اپنے آپ کو” ٹچ می ناٹ“ کے منصب پر فائز کرنا چاہتے ہیں۔ قانون سب کے لئے برابر ہوناچاہیے۔ امریکہ کسی کا دوست نہیں وہ اپنے مفادات کے لیے داداگیری کرتاہے ۔ سیاسی و عسکری قیادت کا فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرح از سر نو سرنڈر بڑا المیہ ہو گا۔ حکمران قومی سلامتی کے ساتھ خطرناک کھیل سے باز نہ آئے تو امریکی غلامی سے نجات اور نیٹو سپلائی کے خلاف کیماڑی بن قاسم کراچی ، چمن اور طور خم پر فیصلہ کن دھرنے دیئے جائیں گے ۔