پشاور ‘ زرعی تربیتی مرکز پر دہشتگردوں کا حملہ‘9 طلبہ سمیت10 شہید‘ 4 حملہ آور ہلاک

پشاور ( بیورو رپورٹ +اے این این+ آئی این پی+ اے پی پی) دہشت گردوںنے پشاور زرعی ڈائریکٹوریٹ انسٹیٹیوٹ پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 10افراد شہید اور 38 زخمی ہو گئے جبکہ فورسز کی کارروائی میں 4 حملہ آور بھی مارے گئے ۔ شہید ہونے والوں میں8 طلبہ، ایک گارڈ شامل ہیں۔زخمیوں میں پاک فوج کے دو جوان، دو پولیس اہلکار، دو طالب علم اور دو گارڈز بھی شامل ہیں۔شہداء کی تدفین کر دی گئی ،جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لئے گئے۔ مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی۔واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کر لی۔ پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر واقع زرعی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں برقع پوش مسلح دہشت گردوں نے اندر گھس کر اندھادھند فائرنگ کی ‘ 3 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ دو افراد ہسپتال میں زخموں کی تاب لاتے ہوتے ہوئے دم توڑ گئے۔پاک فوج کے دو جوان، دو پولیس اہلکار، دو طالب علم اور دو گارڈز شامل ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق زرعی یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ پشاور پر حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد جوابی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔دہشت گردوں سے 12 دستی بم، 3 کلاشن کوف اور 3 خودکش جیکٹس برآمد ہوئیں۔ فوجی دستوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کا گھیرا ؤ کر لیا جب کہ آرمی ایوی ایشن کی جانب سے علاقے کی فضائی نگرانی کی گئی۔ ہاسٹل سے طلبہ کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ دہشت گردوں نے خودکش جیکٹس پہنی ہوئی تھیں۔ حکام نے یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا۔ خیبرپی کے پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے برقعے پہنے ہوئے تھے اور وہ بھیس بدل کر رکشے میں آئے تھے جبکہ رکشہ ڈرائیور بھی ممکنہ طور پر حملے کا سہولت کار ہے۔ پشاور کے ایس ایس پی آپریشن سجاد خان نے تصدیق کی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے کے وقت زرعی ڈائریکٹوریٹ کے ہاسٹل میں طلبہ موجود تھے اور متعدد طلبہ نے جان بچانے کیلئے بالائی منزل سے چھلانگ دی جس کے نتیجے میں انہیں چوٹیں بھی آئی ہیں۔ واقعہ کے عینی شاہد اور زخمی طالب علم نے بتایا کہ حملے کے وقت ہم ہاسٹل میں سو رہے تھے، اچانک فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔ 8 دوستوں نے باتھ روم میں چھپ کر جان بچائی۔واضح رہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ میں دفاتر اور ہاسٹل بھی واقع ہیں۔ محکمہ زراعت کا تربیتی مرکز پشاور یونیورسٹی کے سامنے اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے ملحق ہے۔ یہ ایک تربیتی ادارہ ہے اور یہاں جمعے کو عید میلاد النبی کی وجہ سے چھٹی تھی۔دریں اثناء حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے۔کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ان کے حملے کا نشانہ انٹیلی جنس ایجنسی کا خفیہ دفتر تھا۔تاہم کالعدم تنظیم کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ آیا زرعی ڈائریکٹوریٹ کے احاطے میں کسی سکیورٹی ادارے کا کوئی خفیہ دفتر موجود ہے یا نہیں۔حملے کا نشانہ بننے والا زرعی مرکز پشاور یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج کے بالمقابل واقع ہے۔ ادھر جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔محکمہ انسداد دہشت گردی نے زرعی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پر حملے کا مقدمہ درج کرلیا جب کہ تعلیمی ادارے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔حملے میں شہید ہونے والے چار طالبعلموں کی لاشیں آبائی گاؤں روانہ کردی گئیں۔ شہید طالبعلموں کا تعلق بونیر، مانسہرہ، ایف آرڈی آئی خان، ڈومیل بنوں، دیر لوئر، شانگلہ، کوہستان اوراورکزئی سے تھا ۔ تحقیقاتی حکام نے مختلف کیمروں کی سی سی ٹی وی وڈیو حاصل کرلی ہے، ہلاک دہشت گردوں کے اعضا کے نمونے ڈی این اے کے لیے لاہور بھیج دیئے گئے ہیں۔ اس بارے کھوج لگائی جارہی ہے کہ حملہ آوروں نے برقعے کہاں سے خریدے؟، حملہ آوروں کی آمد کا روٹ جاننے کیلئے یونیورسٹی روڈ اور ملحقہ علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والے طالبعلم نیک زمان کی حالت تشویشناک ہے۔ وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام نے نیک زمان کے علاج معالجے کا خرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھانے کا اعلان کیا۔ ادھر صوبائی حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی پشاور کا ہنگامی دورہ کیا جہاں انہوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ صدر ممنون حسین ،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو ہر ممکن علاج معالجہ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔سپیکر قومی اسمبلی ،ڈپٹی سپیکر،چیئرمین سینٹ ،وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف،عمران خان ،بلاول بھٹو،اسفند یار ولی اور دیگر رہنماؤں نے بھی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔سابق وزیراعظم نوازشر یف نے کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں۔ خون کے آخری قطرے تک ان سے لڑیں گے۔ مسلح افواج نے جرأت و بہادری کا ثبوت دیا جس پر فوج اور سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبرپی کے صلاح الدین محسود نے کہاہے کہ ایگریکلچرٹریننگ انسٹیٹیوٹ (اے ٹی آئی) پشاور پر دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں 12افرادشہید ہوگئے۔ آئی جی خیبر پی کے نے کہا عیدمیلادالنبی ﷺ اور ہفتہ اور اتوار کی لمبی چھٹیوں کے باعث انسٹیٹیوٹ میں طلباء کی تعدادنہ ہونے کے برابر تھی انہوں نے کہاکہ پولیس ،ایلیٹ فورس ، ریپڈرسپانس فورس اور آرمی کے جوانوں کی بروقت کارروائی کے باعث دہشتگردوں کو آگے بڑھنے کا موقع نہ مل سکا اوراگر دہشتگرد ہاسٹلوں اورکوارٹروں میں داخل ہوجاتے توزیادہ جانی نقصان کا خدشہ تھا۔آئی جی نے کہاکہ دہشتگردوں کے حملے کے بعد تین سے پانچ منٹ کے دوران سکیورٹی فورسز کے جوان پہنچ گئے اورآپریشن شروع کردیا۔دہشتگردوں کی رسائی صرف ایک ہاسٹل تک ہوسکی تھی جبکہ سکیورٹی فورسز نے دوسرے ہاسٹل اور رہائشی کوارٹروں کو کورکرلیاتھا جہاں سے انہوں نے طلباء اورمکینوں کو باحفاظت باہرنکالا۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگرد افغانستان سے رابطے میں تھے جہاں سے انہیں ہدایات دی جارہی تھیں۔۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی )کا پشاور دہشتگرد حملے کی ذمے داری قبول کرنا افغانستان سے دہشت گردی کا ثبوت ہے۔ ترجمان پاک فوج نے پشاور حملے سے متعلق بیان میں کہا کہ8 بج کر 45 منٹ پر دہشت گرد رکشے سے ڈائریکٹوریٹ زراعت پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا دہشت گرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے رابطے میں تھے۔ ٹی ٹی پی کی ذمے داری قبول کرنا افغانستان سے دہشت گردی کا ثبوت ہے، دہشت گردی کرنے اور کرنے والے اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف اور اشرف غنی کی ملاقات کے بعد افغان وفد پاکستان آیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت کچھ کیا ہے، افغانستان کے اندر کا کام وہاں موجود فورسز کو ہی کرنا ہے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ڈی جی ایم او وفد کے ہمراہ پاکستان میں ہیں، ان کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ حملے کے ثبوت افغان ڈی جی ایم او کو دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہر قسم کا تعاون افغانستان کے ساتھ ہے ۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آرمی چیف اور اشرف غنی نے اتفاق کیا تھا کہ پاکستان کی حمایت پہلے بھی ہے اور بھی چاہیے، افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہوتے رہتے ہیں۔سانحہ پشاور کے بعد شہر کی فضا گزشتہ روز بھی سوگوار رہی۔ بازار اور مارکیٹس بند تاہم شہر کے دیگر تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہے۔ سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کی بھاری نفری نے پشاور کے قریب بڈھ بیر اور ٹیلہ بند کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا۔ برآمد شدہ اسلحہ میں تین مختلف اقسام کی بندوقیں، شارٹ مشین گن، پستولیں اور درجنوں کارتوس بھی شامل ہیں۔ پشاور شہر کو تباہی سے بچا لیا گیا۔ سی ٹی ڈی نے جمعہ خان خوڑ ناصر باغ سے دو دہشت گرد بارودی مواد سمیت گرفتار کر لئے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے زرعی ڈائریکٹوریٹ پرحملے کے شہدا کے ورثا کے لئے فی کس 10 لاکھ جب کہ شدید زخمیوں کے لئے 5،5 لاکھ اور معمولی زخمیوں کے لئے 2،2 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مبارک دن کے موقع پر دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کی کیوں کہ بیرونی اور اندرونی دشمن پاکستان کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں جب کہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہم کسی صورت دہشت گردوں کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ علاوہ ازیں مہمند ایجنسی میں بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں ایک فوجی شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ دھماکہ تحصیل صافی کے علاقے چمرکند میں پیش آیا جب دو اہلکاروں نے چیک پوسٹ کیلئے پانی لینے کے دوران حادثاتی طور پر بارودی مواد کو چلایا۔ دوسری جانب بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن میں کرسچن کالونی کے گیٹ کے باہر دستی بم کے دھماکے کے نتیجے میں ایک 7 سالہ بچہ جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہو گئے۔ ادھر امریکہ نے زرعی ڈائریکٹوریٹ پشاور پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ د کھ کی اس گھڑی میں امریکہ پاکستانی حکومت اورعوام کے ساتھ ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس نے حملے کی مذمت کرتے کہا ذمہ داروںکو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ سعودی عرب نے بھی پشاور زرعی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔
پشاور حملہ