ایک شخص نے حضرت ابراہیم ادھمؒ سے نصیحت چاہی۔ آپ نے فرمایا بندھے ہوئے کو آزاد کر دے اور آزاد کو بند کر دے۔ اس نے عرض کیا ”میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔“ اپنی بند تھیلیاں کھول دے اور کھلی ہوئی زبان بند کر دے۔“ ایک اور شخص نے عرض کیا۔ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔“ فرمایا! ”اگر مزید تفصیل
غرناطہ کے موسیٰ اور دلی کے بخت خان کی طرح جنوبی ہند کے ملک جہان خان نے بھی نامساعد حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ اس نے بھی ذلت و رسوائی کی زندگی کےساتھ سمجھوتہ نہ کیا بلکہ غیرت و حمیت کا راستہ اختیار کیا جو کٹھن راستہ ہے مگر بالآخر عزت کے معبد کی طرف لے جاتا مزید تفصیل
خوارج وہ لوگ تھے، جو سیدنا علیؓ کے تحکیم (ثالثی) پر متفق ہونے کے بعد آپ سے الگ ہو گئے۔ ان کا نعرہ تھا ”لا حکم الاللہ“ (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حکم نہیں) سیدنا علیؓ نے انکے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے ایک سچے کلمہ کو غلط معانی پہنا دئیے ہیں۔ یہ درست ہے کہ فرمانروائی صرف اللہ مزید تفصیل
عزت و وقار کا احساس بہت سی برائیوں سے بچاتا ہے اگر یہ احساس باقی نہ رہے تو انسان کو ذلیل سے ذلیل حرکت کرنے میں کوئی باک نہیں ہوتا۔ موجودہ دور میں جو ساری دنیا میں اخلاقی زوال نظر آتا ہے اسکا ایک سبب بعض یورپی مفکرین کے نظریات ہیں جو پڑھے ہو¶ں اور ان پڑھوں سب میں آہستہ آہستہ مزید تفصیل
سیدنا عثمانؓ کے دور کے آخری برسوں میں ابن سبا یہودی اور اسکے بعض ساتھیوں نے حکومت کےخلاف بغاوت اور فتنہ و فساد کی سازش کی۔ پہلے یہ لوگ حضرت سعیدؓ بن عاص کے پاس گئے جنہوں نے کوفہ کی گورنری سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر ابھی تک قصر امارت میں تھے۔ ان کا گمان تھا کہ سعیدؓ حضرت مزید تفصیل