سورة الانبیا میں فرمایا اللہ تعالیٰ لوگوں پر مہربانی فرماتے ہیں کہ انکی ہدایت کیلئے پیغمبر بھیجتے ہیں اور سب سے آخر میں حضورﷺ رحمتہ للعالمین کو سارے جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا، مگر نہ ماننے والے الٹا طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں یہ تم جیسا بشر ہے‘ کبھی مزید تفصیل
قرآن پاک کی ابتدائی سورہ البقرہ میں مسلمانوں کو احکام شریعت دینے سے پہلے یہود کا تفصیلی تذکرہ فرمایا اورانکی ایک ایک برائی گنوائی‘ تاکہ مسلمان ان برائیوں سے بچیں۔ آیات 102,101 میں فرمایا ”101۔ اور جب انکے پاس اللہ (تعالیٰ) کی طرف سے ایک رسول (جناب رسول پاک) آئے تصدیق کرتے مزید تفصیل
سورہ الانعام میں فرمایا ”بلاشبہ ہم نے (آپ سے) پہلی امتوں میں (بھی ) رسول بھیجے۔ (مگرانہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا) تب ہم نے انہیں سختی (تنگی معیشت) اورتکلیف (بیماری وغیرہ) کی گرفت میں لے لیا‘ تاکہ وہ (ہماری جناب میں) زاری کریں۔”43۔ پھر جب ان پر ہماری (طرف سے) سختی مزید تفصیل
سورہ الانفال اور سورہ التوبہ دونوں جنگ کے بارے میں ہیں۔ سورہ الانفال میں ان اصولوں کا بیان ہے‘ جو اسلام نے جنگ کے بارے میں مقرر کئے ہیں۔ سورہ التوبہ میں بعض خاص جنگی حالات بیان فرمائے۔ سورہ الانفال جنگ بدرکے موقع پر نازل ہوئی۔ سورہ التوبہ فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں نازل مزید تفصیل
اس سے پہلی سورہ میں فرمایا تھا کہ ہر ایک کیلئے دونوں راستے کھلے ہیں گمراہی کا بھی اور ہدایت کا بھی۔موجودہ سورہ کے آغاز میں ہواﺅں کا ذکر فرمایا کہ وہ پہلے تو اٹھتی ہیں‘ پھر زور پکڑتی ہیں‘ پھرکہیں رحمت کے بادل لاتی ہیں‘ کہیں عذاب کا طوفان۔ کسی کیلئے اتمام حجت بنتی ہیں مزید تفصیل