”سورة القریش“ میں قریش مکہ سے فرمایا کہ: بیت اللہ شریف کی تولیّت کے باعث کوئی بھی ان کے جاڑے اور گرما کے دونوں تجارتی قافلوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ پس انہیں چاہئے کہ وہ اس گھر (بیت اللہ شریف) کے مالک کی عبادت کریں جو انہیں بھوک سے (بچاتا ہے اور) کھانا کھلاتا ہے اور خوف مزید تفصیل
پہلے کہا جاتا تھا کہ دنیا تین‘ ڈائیمنشن طول عرض اور بلندی کی دنیا ہے۔ یعنی جو واقعہ ہوتا ہے‘ اس کے وقوع پذیر ہونے کی جگہ متعین کرنے کےلئے طول‘ عرض اور بلندی ماپنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پھر وقت کو چوتھے ڈائیمنشن کا درجہ دیا گیا۔ کہا گیا کہ ہر واقعہ صرف کسی جگہ پر ہی وقوع مزید تفصیل
محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں.... ”فتنہ و فساد کے طوفان پر نظر ڈالنے سے بعض قابل غور اہم امور سامنے آتے ہیں“۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو فتنہ اٹھا‘ بڑی تیزی سے اٹھا۔ اسود عنسی یمنی نے بڑے تھوڑے عرصہ میں ملک کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا اور اس کی حکومت مکہ مکرمہ اور طائف تک پھیل گئی۔ مزید تفصیل
اسلام نے چونکہ قیامت تک کیلئے رہنا ہے اس لئے یہ بیک وقت قدیم بھی ہے اور جدید بھی اور یہ اس کی یکتا صفت ہے توحید‘ آخرت‘ رسالت اس کے قدیم اور ابدی اصول ہیں ارکان شریعت قدیم بھی ہیں اور ہر دور میں جدید بھی۔ یعنی ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ اسلامی قانون کا مسلمہ اصول مزید تفصیل
قرآن پاک میں ارشاد ہے ’’اور جو اللہ (تعالیٰ) کی راہ میں قتل ہو جائیں‘ انہیں مردہ نہ ہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں (انکی زندگی کی) سمجھ نہیں‘‘ ’’اور وہ جو اللہ (تعالیٰ) کی را ہ میں قتل ہو جائیں انکے بارے میں یہ گمان نہ کرو کہ وہ مر گئے ہیں (نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب مزید تفصیل