سورہ یسٰین اورسورہ ق کی طرح اس سورہ کا آغاز بھی قرآن پاک کی قسم سے فرمایا۔ سورہ یسٰین میں قرآن پاک کو پراز حکمت فرمایا‘ سورہ ق میں قرآن ذیشان اور یہاں قرآن جواول تا آخر ذکر یعنی نصیحت سے بھرپور ہے۔ اسکے بعد فرمایا لیکن اس کے باوجود کفار اپنی اکڑ کے باعث اسکی مخالفت میں پڑے مزید تفصیل
آیہ 11میں فرمایا کہ سب لوگ ایسے نہیں جو مشکلات میں مایوس اور ناشکرے ہو جائیں اور اچھے حالات میں اترانے اور شیخی بگھارنے لگیں۔”11 مگر وہ جنہوں نے صبر کیا اور نیک اعمال میں لگے رہے۔ وہی ہیں جن کیلئے (انکی کوتاہیوں کی) بخشش اور (انکے نیک اعمال کا)اجر کبیر ہے“۔ (آیہ ختم) مزید تفصیل
آیہ 6 سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان ہے:”6۔ اور روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں‘ مگر اسکا رزق اللہ (تعالیٰ) کے ذمہ ہے۔ اور اللہ (زندگی میں) اسکے مسکن اور (موت کے بعد) اسکے سونپے جانے کی جگہ جانتا ہے۔ہر بات کتاب مفصل (لوح محفوظ) میں موجود ہے۔”7۔ اور وہی ہے‘ جس نے آسمانوں مزید تفصیل
تخلیق کے دوسرے مرحلہ یعنی روئے زمین پر نمودار ہونے والی پیدائش کا بیان جاری ہے۔’’4۔ (دیکھو) زمین میں پاس پاس قطعات ہیں‘ (مگر ہر ایک کی تاثیر مختلف ہے) کہیں انگوروں کے باغات ہیں‘ اور (کہیں) کھیتیاں اور (کہیں) کھجوریں… بعض ایک ہی جڑ سے پھوٹی ہوئی اور بعض الگ الگ‘ حالانکہ مزید تفصیل
اس سورہ میں مختلف بدکردار قوموں کی تباہی کے حالات بیان کرنے کے بعد فرمایا’’تو کیوں نہ ہوئے ان قوموں میں سے جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں ایسے لوگ جن میں نیکی باقی تھی کہ وہ دوسروں کو فساد پھیلانے سے روکتے‘ سوائے (ان معدودے) چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا…‘‘ گویا جب مزید تفصیل