قرآن پاک میں ارشاد ہے (ترجمہ) اوربلا شبہ ہم نے زبور میں ذکر (وموعظت) کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے صالح (باصلاحیت اور صاحب کردار) بندے ہوں گے۔ یقینًا اس میں واضح حقیقت ہے عبادت گزار بندوں کے لئے (۲۱،۱۰۵،۱۰۶) جو کچھ زبور میں فرمایا تھا، اس کا یہاں حوالہ دے رہے مزید تفصیل
علامہ اقبالؒ نے رموزِ بے خودی میں ملتِ اسلامیہ کے بنیادی ارکان کی وضاحت کی ہے وہ توحید کو رکن اول قرار دیتے ہیں۔ پہلے دو اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے:’عقل اس جہان احساس و مسافت میں آوارہ پھرتی رہی‘ پھر توحید کے ذریعہ اس نے منزل کا راستہ پایا‘ توحید کے بغیرعقل منزل نہیں مزید تفصیل
جرائم کا سدباب اسی صورت میں ممکن ہے جب ہرفردکے اندرجرائم کنٹرول بٹن موجودہو‘ دوسرے‘ معاشرہ بحیثیت مجموعی جرائم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے اور ہمہ وقت ان کےخلاف کوشاں رہے۔قرآن پاک تقویٰ کو مقصود حیات قراردیتا ہے۔ سورہ البقرہ میں فرمایا: اے لوگو!اپنے رب کی عبادت کرو‘ مزید تفصیل
سورہ ھود کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے چند قوانین ارشاد فرمائے۔ ایک یہ کہ اس جہان میں قانون مہلت کام رہا ہے۔ اس لئے بدکردار افراد یا اقوام کی گرفت فوراً نہیں ہوتی بلکہ انہیں مہلت دی جاتی ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اس مہلت کے دوران اپنا رویہ درست کر لیں لیکن اگر وہ اپنا طرز عمل مزید تفصیل
سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ”اور ہر قوم کیلئے ایک اجل ہے پھر جب انکی اجل آجاتی ہے نہ وہ لوگ ایک گھڑی پیچھے رہتے ہیں اور نہ (ایک گھڑی) آگے بڑھتے ہیں“ یوں نظر آتا ہے جیسے ہندو قوم کی اجل قریب آپہنچی ہو قوموں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ظلم ہے‘ اسکے بعد دوسرے اخلاق رذیلا‘ مثلاً مزید تفصیل