سورة التوبہ میں فرمایا (ترجمہ) ” زکوٰة صرف فقرائ‘ مساکین‘ زکوٰة وصول کرنے والوں‘ مولفة القلوب‘ قیدیوں‘ مصیبت زدگان‘ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور مسافروں کیلئے ہے۔“ ۱۔ فقراءسے مراد مفلس لوگ ہیں۔ یہ لفظ غنی کے مقابلے میں بولا جاتا ہے۔ اصطلاحاً ہم کہہ سکتے ہیں ایسے لوگ مزید تفصیل
قرآن پاک میںصلٰوةاور زکوٰةکوتقریباً سا تھ ساتھ رکھا گیا ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ اس سے مومن و کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ اس سے ایک چھوٹے محلہ سے ایسے معاشرہ کی بنیاد پڑتی ہے ، جس کی بنیاد تعلق باللہ، اخوت و مساوات ، ضبط پر ہے۔ زکوٰة اس معاشرہ میں مالی ہمواری پیداکرتی ہے۔ زکوٰة مزید تفصیل
اللہ تعالیٰ نے اپنی تین صفات ربوبیت‘ رحمت‘ اور عدل کا ذکر فرمایا۔ رحمت کیلئے دو اسمائے صفات لاکر اس کی فوقیت کی طرف اشارہ فرما دیا۔ دیکھا جائے تو ربوبیت بھی رحمت ہی کا کرشمہ ہے ہر وجود کو ہر مرحلہ پر اسکی مناسب نشو و نما کیلئے اسباب مہیا کرنا ربوبیت ہے۔ بچے کیلئے ماں کا مزید تفصیل
لامحدود کو تحریر میں محدود نہیں کیا جا سکتا‘ مگر اسکے ذکر کے بغیر رہا بھی نہیں جا سکتا‘ ہر قلب میں اس کا احساس اور ہر روح میں اسکی تڑپ ہونا ہی اسکے وجود کا سب سے بڑا ثبوت ہے....ہر دل میں اسکی یاد بسی سبحان اللہ! سبحان اللہ! ہر روح میں اسکا جلوہ تھا سبحان اللہ! سبحان مزید تفصیل
تعمیر شخصیت ہی مقصد حیات ہے اور اسلام اس کیلئے بالکل آسان فارمولا مہیا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنے آپ کو گلا کر حضور اکرم کے سانچے میں ڈھال لو‘ اقبالؒ نے اسے ایک مصرعہ میں سمو دیا ہے....ع .... بحق دل بند و راہ مصطفیٰ رو (اللہ تعالیٰ سے دل لگا اور جناب رسول پاک کے مزید تفصیل