علامہ اقبالؒ نے رموزِ بے خودی میں ملتِ اسلامیہ کے بنیادی ارکان کی وضاحت کی ہے وہ توحید کو رکن اول قرار دیتے ہیں۔ پہلے دو اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے: ’عقل اس جہان احساس و مسافت میں آوارہ پھرتی رہی‘ پھر توحید کے ذریعہ اس نے منزل کا راستہ پایا‘ توحید کے بغیرعقل منزل نہیں پا مزید تفصیل
جرائم کا سدباب اسی صورت میں ممکن ہے جب ہر فرد کے اندر جرائم کنٹرول بٹن موجود ہو‘ دوسرے‘ معاشرہ بحیثیت مجموعی جرائم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے اور ہمہ وقت ان کیخلاف کوشاں رہے۔قرآن پاک تقویٰ کو مقصود حیات قرار دیتا ہے۔ سورہ البقرہ میں فرمایا: اے لوگو! اپنے رب کی عبادت مزید تفصیل
سورہ ھود کے آخری رکوع میں آپؐ نے چند قوانین ارشاد فرمائے۔ ایک یہ کہ اس جہان میں قانون مہلت کام رہا ہے‘ اس لئے بدکردار افراد یا اقوام کی گرفت فوراً نہیں ہوتی بلکہ انہیں مہلت دی جاتی ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اس مہلت کے دوران اپنا رویہ درست کر لیں لیکن اگر وہ اپنا طرز عمل نہ بدلیں، مزید تفصیل
سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ’’اور ہر قوم کیلئے ایک اجل ہے پھر جب انکی اجل آجاتی ہے نہ وہ لوگ ایک گھڑی پیچھے رہتے ہیں اور نہ (ایک گھڑی) آگے بڑھتے ہیں‘‘ یوں نظر آتا ہے جیسے ہندو قوم کی اجل قریب آپہنچی ہو قوموں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ظلم ہے‘ اسکے بعد دوسرے اخلاق رذیلا‘ مثلاً مزید تفصیل
’’سورۃ القریش‘‘ میں قریش مکہ سے فرمایا کہ: بیت اللہ شریف کی تولیّت کے باعث کوئی بھی ان کے جاڑے اور گرما کے دونوں تجارتی قافلوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ پس انہیں چاہئے کہ وہ اس گھر (بیت اللہ شریف) کے مالک کی عبادت کریں جو انہیں بھوک سے (بچاتا ہے اور) کھانا کھلاتا ہے اور مزید تفصیل