کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میچ فکسنگ کا واقعہ اگرملک اور ٹیم کے خلاف کوئی سازش ہوئی تو دفاع کریں گے تاہم کوئی کھلاڑی ملوث پایا گیا تو ملک وقوم کی بدنامی کا سبب بننے والے کھلاڑی کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا ۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پہلے بھی سازشیں ہوتی رہی ہیں عوام میچ فکسنگ کی رپورٹ کا انتظار کریں۔ اس حوالے سے منظرعام پر آنے والی ویڈیو جعلی بھی ہوسکتی ہے کریمنل انکوائری کے بعد ہی صورتحال واضح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی ابھی تحقیقاتی رپورٹ نہیں ملی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ میچ فکسنگ کی خبر ملک اور شائقین کرکٹ کے لئے بدنامی کا باعث بنی ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ ملنے کے بعد تحقیقات کیلئے لندن جائے گی ۔ اس سے قبل ایف آئی اے آفس میں وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے میچ فکسنگ سےمتعلق ایک اجلاس کی صدارت کی ۔ جس میں تین رکنی فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ کمیٹی میں ڈائریکٹر ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر انعام غنی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آغا عشرت اور انسپکٹر طاہر درانی شامل ہیں۔
Post New Comment