لاہور( مانیٹرنگ نیوز) لارڈ ٹیسٹ میں میچ فکسنگ کے الزامات سے پاکستان کرکٹ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا تاہم میچ فکسنگ کے الزامات قومی ٹیم پر نئے نہیں اس سے پہلے بھی کئی بار کھلاڑیوں پر الزامات لگے ہیں جو ثابت تو نہیں ہوئے۔ میچ فکسنگ کی بات ہو تو سب سے پہلے سلیم ملک کا ذکر آتا ہے جن پر تین آسٹریلوی کھلاڑی مارک وا، شین وارن اور ٹم مے نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ان تینوں کو میچ میں خراب کارکردگی دکھانے کے لئے رشوت دی تھی۔ اس الزام کے بعد سلیم ملک، اعجاز احمد اور اکرم رضا کو پاکستان ٹیم سے کچھ عرصے کے لئے بلاہر کر دیا گیا، مگر بعد میں پتہ چلا کہ خود شین وارن اور مارک وا بھی سری لنکا میں بک میکر سے مستفید ہو چکے تھے۔ سلم ملک اور اعجاز احمد کی ٹیم میں واپسی تو ہوئی، مگر ان کے کیریئر پر لگا داغ دھل نہ سکا۔1996ءکے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل سے قبل ان فٹ ہو جانے پر کپتان وسیم اکرم کی انجری پر بھی ناقدین نے تعجب اظہار کیا تھا۔1999ءمیں ایک مرتبہ پھر میچ فکسنگ کا جن بوتل سے باہر نکلا اور سلیم ملک، وسیم اکرم، مشتاق احمد، عطاءالرحمان، وقار یونس، انضمام الحق، اکرم رضا، اور سعید انور کو نگل گیا۔ ان کھلاڑیوں پر جسٹس ملک قیوم نے جرمانے کی سفارش کی تھی۔ ان کھلاڑیوں میں سے صرف سلیم ملک اور عطاءالرحمان پر ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگائی گئی تھی اور اب ایک مرتبہ پھر پاکستان ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث پائی جا رہی ہے۔ دورہ آسٹریلیا پر کامران اکمل کی بے جان وکٹ کیپنگ ہو یا دورہ انگلینڈ سے قبل لیگ اسپنر دانش کنیریا کی میچ فکسنگ میں مبینہ شمولیت، ثابت کچھ نہیں ہوا۔ محمد عامر اور محمد آصف کی مبینہ میچ فکسنگ سے دکھ تو سب کو ہوا مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ سابق کپتان وقار یونس اور اعجاز احمد آج بھی ٹیم کے ساتھ بحیثیت ہیڈ کوچ اور فیلڈنگ کوچ موجود ہیں جن کی نشاندہی ملک قیوم نے اپنی رپورٹ میں کی تھی۔ اسسٹنٹ کوچ عاقب جاوید نے میچ فکسنگ کا اعتراف دورہ آسٹریلیا پر ناقص کارکردگی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے سامنے بھی کیا تھا۔
Post New Comment