لاہور (حافظ محمد عمران، وقت نیوز رپورٹ) میں نے تنقید کو ہمیشہ مثبت انداز میں لیا ہے، کبھی ناامید اور مایوس نہیں ہوا، جس سطح پر بھی کرکٹ کھیلی ہے سو فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں اچھی پرفارمنس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور ان پرستاروں کا بھی مشکور ہوں جو میری کامیابی کے لئے دعا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنیوالے وکٹ کیپر بلے باز ذوالقرنین حیدر نے وقت نیوز کے پروگرام گیم بیٹ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حوالے سے خوش قسمت ہوں کہ انگلینڈ میں جہاں کرکٹ بہت مشکل ہے۔ پہلے ہی میچ میں بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا۔ پہلی اننگز میں صفر پر آوٹ ہونے کا دکھ ہوا لیکن سینئر کھلاڑیوں نے حوصلہ افزائی کی۔ دوسری اننگز میں بھی امپائر نے آوٹ دیا تو مجھے اندازہ تھا کہ امپائر غلطی کر گیا ہے اس لئے ریویو میں گیا اور پھر 88 رنز کی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہا۔ نوجوان وکٹ کیپر بلے باز کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں ہر بلے باز کو محتاط ہو کر کھیلنا پڑتا ہے اور اپنے شاٹس روکنا پڑتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے شاٹس روکنے رنز کے لئے خراب گیندوں کا انتظار کیا۔ انگلش ٹیم کے کھلاڑی فقرے کستے رہے اور میں خوشدلی سے ان کا جواب بھی دیتا رہا۔ ذوالقرنین حیدر کا کہنا تھا کہ وہ کامران اکمل کی بڑے بھائیوں کی طرح عزت کرتے ہیں۔ وہ سینئر ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کھلاڑی ٹیم میں ہو، میری خواہش ہوتی ہے کہ پاکستان کا جھنڈا سب سے اونچا نظر آئے اور ٹیم کامیابیاں حاصل کرتی رہے۔ نوجوان وکٹ کیپر بلے باز کا کہنا تھا کہ سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی میں جونیئرز کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
Post New Comment