لاہور ( سپورٹس رپورٹر+ثناءنیوز) وفاقی وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی نے کہا ہے کہ آئی پی ایل کی جانب سے پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں کی بولی نہ لگانے میں بھارتی حکومت ملوث ہے۔ اس معاملہ کو آئی سی سی میں اٹھائیں گے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر کھیل نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی سے ملاقات میں آسٹریلیا میں قومی کرٹک ٹیم کی ناکامی اور آئی پی ایل سمیت مختلف امور زیربحث آئے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل بھارتی حکومت کے بغیر پاکستانی کھلاڑیوں کو نظرانداز نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئی پی ایل کو لو ریٹ کے کھلاڑی تو نظر آجائیں اور پاکستان کے چیمپئن کھلاڑیوں پر نظر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی میں کرپشن کا معاملہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس میں موجود ہے جب تک وہ کوئی فیصلہ نہیں کرتی کرکٹ بورڈ یا حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے حوالہ سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جمشید دستی کو غیراخلاقی زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو وزرارت کھیل یا پی سی بی انہیں فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی خودمختار ادارہ ہے تاہم وزارت کھیل اور پی سی بی میں رابطہ ہونا چاہئے کیونکہ دونوں کا مقصد کرکٹ کو بہتر بنانا ہے۔ سلیکشن اور دیگر امور کے حوالے سے دونوں میں مشاورت سے کھیل میں بہتری آئے گی اور پارلیمنٹ میں کھیل سے متعلق سوالات کے جوابات مجھے دینا ہوتے ہیں۔ اس لئے میرا پی سی بی کے امور سے آگاہ رہنا بہت ضروری ہے۔ پی سی بی کے آئین میں ترمیم کی انتہای ضروری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منظوری کے بعد ہی وہ اس پر بات کر سکیںگے۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم پی سی بی اور پروفیشنلز سے طویل مشاورت کے بعد کی جا رہی ہے۔دریں اثناءوفاقی وزیر کھیل نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ سڈنی ٹیسٹ میں شکست کی انکوائری ضرور کرائی جائیگی۔
اس موقع پر چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے معاملہ پر ہمیشہ تنقید ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کسی غیرملکی کوچ کو پاکستان نہیں آنا چاہئے۔
Post New Comment