آئین میں قائمہ کمیٹی برائے کھیل کا ذکر نہیں‘ صدر اختیارات کی وضاحت کریں : توقیر ضیاء

ـ 23 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیاءنے کہا ہے کہ آئین میں کسی جگہ قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ پی سی بی کے پیٹرن انچیف صدر مملکت آصف زرداری کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد قائمہ کمیٹی اور پی سی بی کے اختیارات کے متعلق واضح کریں کہ وہ ایک دوسرے سے جواب طلبی کر سکتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے لوگ معتبر ہیں انہیں سب کی بات سننی چاہیے۔ چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ اگر کسی وجہ سے اس کے سامنے پیش نہیں ہو رہے تو اس کی لازمی کوئی وجہ ہوگی۔ اعجاز بٹ جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے رہے ہونگے۔ انہوں نے کہا اعجاز بٹ اور قائمہ کمیٹی کے ارکان اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک کی طرف سے پاکستان میں آئی سی سی ورلڈ الیون کو بھجوانے کی تجویز بہت اچھی ہے اعجاز بٹ کو چاہیے کہ وہ ان کے ساتھ مزید اچھے تعلقات قائم کریں انگلش کرکٹ بورڈ پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ آئی سی سی ورلڈ الیون پاکستان آ گئی تو انٹرینشنل کرکٹ کے پاکستان میں دورازے کھل جائیں گے۔ لاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ ندیم نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے کھیل صرف اعجاز بٹ کو ٹارگٹ بنا رہی ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کی تنزلی کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں ان سے سابقہ کرکٹ بورڈز پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ موجودہ وقت میں کرکٹ کے لیے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں جس کی ایک بڑی مثال مختلف ایسوسی ایشن کے انتخابات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز بٹ بھی جواب دے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ہر کام میں انہیں گھسیٹ لیا جائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions