سینٹ استحقاق کمیٹی نے اعجاز بٹ کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی

ـ 20 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف توہین آمیز بیان بازی کے الزام ثابت ہونے پر وزارت کھیل کو انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ جمعرات کو قائمہ کمیٹی برائے استحقاق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر طاہر حسین مشہدی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان عباس خان، پروفیسر ساجد میر، سینیٹر ڈاکٹر محمد اسماعیل بلیدی اور تحریک استحقاق جمع کروانے والے سینیٹر ہارون خان، سینیٹر ریحانہ یحییٰ منور، سینیٹر فوزیہ فخر الزمان اور سابق سینیٹر محمد انور بیگ شریک ہوئے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی ایڈووکیٹ کمیٹی میں پیش ہوئے اجلاس کے آغاز میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین طاہر حسین مشہدی نے چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ کو ارکان کے سوالوں کے جواب دینے کی ہدایت کی جس پر انور بیگ نے کہا کہ چھ قومی اخبارات میں بیان شائع ہوا جس میں اعجاز بٹ نے سینیٹ کی قامہ کمیٹی برائے کھیل کے ارکان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے جس پر اعجاز بٹ نے کہا کہ میڈیا میرے حوالے سے کہتا ہے اس میں 90 فیصد درست بیان نہیں ہوتا۔ سینیٹر ہارون خان نے کہا کہ اعجاز بٹ نے قائمہ کمیٹی کھیل کے ارکان پر بے بنیاد الزامات لگا کر استحقاق مجروح کیا اگر اعجاز بٹ کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ سینیٹ کے اجلاس کے دوران کمیٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دینگے عجاز بٹ نے کہا کہ میری غلطی ہے کہ میں تیاری کر کے نہیں آیا مجھے ایک موقع اور دیا جائے چیئرمین طاہر مشہدی نے کہا کہ کمیٹی نے آپ کو متعدد مواقع دیئے ہیں چیئرمین قائمہ کمیٹی کے بار بار کہنے کے باوجود اعجاز بٹ نے اپنے بیان کے حوالے سے معذرت نہ کی اور چیئرمین سے کہا کہ انہیں وقت دیا جائے وہ اپنا ریکارڈ چیک کریں گے جس پر کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جائے ۔کمیٹی نے وزارت کھیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ قائمہ کمیٹی کے اس فیصلے کو صدر کو بھجوائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions