لاہور(سپورٹس رپورٹر) سابق اولمپئنز نے عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستان ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کو فیڈریشن کی ناکامی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ شکست کو قبول کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے۔ عالمی کپ میں شریک تمام ٹیمیں زیادہ تر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں جبکہ پاکستانی ٹیم میں عمر رسیدہ کھلاڑی زیادہ تھے۔ اولمپئن خواجہ ذکا الدین نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے میگا ایونٹ میں اترنے کے لیے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا ماضی پر تنقید کرنے والوں کو آج اپنی کارکردگی کا اندازہ بھی ہو گیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سابق کھلاڑیوں کو واپس لانے کا فیڈریشن کا فیصلہ بری طرح ناکام ہوا ہے۔ عالمی کپ میں شرکت کے لیے جتنی ٹیمیں بھارت پہنچی تھیں ان میں زیادہ تر نوجوان کھلاڑی تھے یہاں تک کہ میزبان ہمسایہ ملک بھارت کی ٹیم بھی نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔ سابق سیکرٹری پی ایچ ایف خالد محمود نے کہا کہ ہم نے جن سینئر کھلاڑیوں سے دو سال قبل جان چھڑائی تھی موجودہ عہدیداران نے انہیں ٹیم میں شامل کر کے بیڑا غرق کر دیا۔ انہوں نے کہا دوران ٹورنامنٹ جب سینئر کھلاڑیوں کے خلاف بیان بازی کی جائے تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا ٹیم مینجمنٹ اپنی غلطیوں کو کھلاڑیوں کے ذمے نہ ڈالے بلکہ اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرئے۔ خالد محمود نے کہا اب حالات بدل چکے ہیں۔ ہمارے دور میں آٹھویں پوزیشن آئی تھی تو بہت زیادہ تنقید کی گئی تھی جبکہ موجودہ دور میں پیسہ بھی آیا لیکن کھیل ترقی کرنے کے بجائے مزید تنزلی کا شکار ہو گیا۔ آج ٹیم آٹھویں سے گیارہویں نمبر پر چلی گئی ہے۔
Post New Comment