لاہور (سپورٹس پرورٹر) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاءکا کہنا ہے کہ ہاکی ورلڈکپ کے میگا ایونٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ کوچ اور منیجر کی رپورٹ آنے کے بعد لیا جائے گا۔ قومی ہاکی ٹیم کی وطن واپسی پر پی ایچ ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں مستقبل کے حوالے سے لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں میگا ایونٹ میں شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہاکی سرگرمیوں کو چلانے کے لئے فیڈریشن کو پچاس کروڑ روپے کی ضرورت ہے، حکومت سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے۔ قاسم ضیاءنے کہا ملکی حالات ایسے نہیں کہ کوئی غیرملکی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے لہٰذا پاکستان ٹیم کو جتنے بھی میچز کھیلنے پڑیں گے وہ بیرون ملک جا کر کھیلنا پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ کے لئے پاکستانی ٹیم نے بھرپور تیاری کی تھی لیکن سینئر کھلاڑی ہماری توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں تمام کھلاڑیوں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ آسٹریلیا ٹورنامنٹ کی خطرناک ٹیم ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں اس نے ریکارڈ ساز مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ قاسم ضیاءنے کہا ورلڈکپ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ٹارگٹ نہیں تھا ہمارا ہدف ایشین گیمز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فیڈریشن کا چارج سنبھالے ابھی سوا سال ہوا ہے اس میں ہم نے اپنی کوشش سے پاکستان ٹیم کو غیرملکی ٹیموں سے میچز فراہم کئے۔ ماضی میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پاس کھلاڑیوں کا بیک اپ نہیں تھا لیکن ہماری کوششوں سے اب فیڈریشن کے پاس چار سے پانچ ٹیمیں موجود ہیں جس میں انڈر 16، انڈر 21، پاکستان اے اور پاکستان ٹیم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کی سینئر اور جونیئر ٹیمیں بھی ہیں۔
Post New Comment