میرے بس میں ہو تو اعجاز بٹ جیسے بالے جیل میں ہوں : جمشید دستی

ـ 9 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (سپورٹس رپورٹر، ریڈیو مانیٹرنگ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے ارجنٹائن میں ہاکی کے کھلاڑیوں کی خواتین کے ساتھ قابل اعتراض تصاویر پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جمشید دستی کی زیر صدارت ہوا قائمہ کمیٹی نے وزیراعظم کو سفارش کی کہ قابل اعتراض تصاویر پر ریحان بٹ کے خلاف ایک لاکھ روپے جبکہ کوچ اور منیجر پر 50' 50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے آسٹریلیا کے خلاف ناقص کارکردگی پر چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ‘ کوچ انتخاب عالم‘ چیف آپریٹنگ آفیسر وسیم باری کو آئندہ اجلاس میں وضاحت کیلئے طلب کر لیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اعجاز بٹ ذہنی اور جسمانی طور پر پی سی بی چلانے کے اہل نہیں صدر مملکت سے سفارش کرتے ہیں کہ اعجاز بٹ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے کیونکہ وہ پی سی بی کے معاملات چلانے کے اہل نہیں چیئرمین قائمہ کمیٹی جمشید دستی نے اجلاس سے خطاب کرتے کہا کہ اگر میرے بس میں ہو تو اعجاز بٹ جیسے بابے جیل میں ہوں۔ چیئرمین جمشید دستی نے سری لنکن ٹیم پر حملے کے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ دریں اثناءچیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمشید دستی کے غیرپارلیمانی زبان کا معاملہ عدالت میں اٹھا¶ں گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ جمشید دستی جو قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں یا کیا کہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو ایک تفصیلی رپورٹ کی بات کر رہے تھے جو وہ پاکستان آنے کے بعد پریس کانفرنس میں باقاعدہ بیان دے کر جاری کرتے، مجھے یہ علم نہیں ہو سکا کہ انہیں میری ”عمر“ کی اتنی فکر کیوں ہے؟ میری عمر سے ان کو کیا پرابلم ہے؟ وہ اپنی بھی عمر دیکھ لیں وہ اپنی مینٹل کنڈیشن (دماغی حالت) کو دیکھیں۔ وہ سوچے سمجھے بغیر بات کر رہے ہیں۔ وہ بلاوجہ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں ایسا فتویٰ دے رہے ہیں جو ہمارے لئے قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپس آ کر اس کا پورا جواب دیں گے اور اس پر ایکشن بھی لیں گے۔
ہم اپنے وکیلوں سے پتہ کریں گے کہ کیا ہم قومی اسمبلی کے رکن کیخلاف کورٹ میں جا سکتے ہیں یا نہیں، یا انہیں چھوٹ ہوتی ہے کہ وہ جو مرضی بات کہہ دیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions