لاہور، کراچی ( ریڈیو نیوز، ریڈیو مانیٹرنگ) چیئرمین قائمہ کمیٹی جمشید دستی نے کہا ہے کہ اب کرکٹ کی بہتری کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پوری قائمہ کمیٹی صدر آصف علی زرداری سے اس معاملے پر ملنا چاہتی ہے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ اس وقت کرکٹ بورڈ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ سابق چیئرمین پی سی بی توقیرضیا نے کہا ہے کہ کرکٹ جوئے میں ملوث لوگوں کے خلاف کرکی ڈاون کیا جائے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ جوئے نے کرکٹ کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ اچھا ہو یا برا ذمہ داری پی سی بی چیئرمین کی ہی ہوتی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ کرکٹ ٹیم کی موجودہ خراب حالت کا ذمہ دار ایوان صدر ہے کرکٹ میں بہت کچھ ہو گیا لیکن ایوان صدر سے ایک بھی بیان نہیں آیا جہاں سے کرکٹ کا چیئرمین مقرر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں اختلافات ہمارے بھی ہوتے تھے لیکن ہم کرکٹ میدان میں ایک ہوتے تھے۔ راشد لطیف نے کہا کہ میچ فکسنگ کا الزام سامنے لایا تو مجھے ڈراپ کر دیا گیا تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی اس وقت جبکہ کیرٹیر عروج پر تھا۔ میچ فکسنگ میں ملوث افراد کو ایوارڈ دئیے گئے جسٹس (ر) قیوم سے جو باتیں ہوئیں وہ آف دی ریکارڈ ہیں۔ سابق کپتان کرکٹ ٹیم عمران خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا کام کرکٹ ٹیم کی کارکردگی جانچنا نہیں ایڈہاک کرکٹ کیلئے مناسب نہیں کرکٹ کی بہتری کیلئے علاقائی سطح پر کرکٹ کو فروغ دیا جائے۔ آسٹریلوی ٹیم کی ٹاپ پر رہنے کی وجہ ڈومیسٹک کرکٹ ہے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے انہوں کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ کمزور ہے پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے جس کی مثال ٹونٹی 20 میچز میں عمران خان نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں کرکٹ بورڈ کا سربراہ صدر نہیں ہوتا۔ حالیہ آسٹریلوی ٹیم انگلینڈ یا جنوبی افریقہ سے ہار سکتی ہے۔ دریں اثناءسابق کپتان عامر سہیل نے کہا کہ کھلاڑی آفیشلز، ادارے سب کرکٹ کی تباہی کے ذمہ دار ہیں، صرف جذبے سے کرکٹ نہیں ہوتی کھلاڑیوں کو گھر بھی چلانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے دے سکتا تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ سابق کپتان معین خان نے کہا کہ شاہد آفریدی کپتان کے لئے موزوں انتخاب ہیں۔ اس دوران لیگ سپنر عبدالقادر، مشتاق احمد، آل راﺅنڈر اظہر محمود سابق وکٹ کیپر سلیم یوسف، پی سی بی کے سابق چیئرمین خالد محمود، پی سی بی گورننگ بورڈ کے رکن ڈاکٹر محمد علی شاہ، شکیل شیخ، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین جمشید دستی، سینیٹر انور بیگ، پاکستان ٹیم کے سابق مینجر اظہر زیدی، کرکٹ کمنٹیٹر منیر حسین، سینئر صحافی عبدالماجد بھٹی، عبدالوحید خان نے بھی آرا کا اظہار کیا۔
Post New Comment