قومی ٹیم کی ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی ‘ سابق اولمپیئنز برس پڑے

ـ 7 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (محمد فہیم انور سے) بھارت میں جاری ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں قومی ہاکی ٹیم کی انتہائی غیرمعیاری کارکردگی پر سابق اولمپئنز‘ سابق منیجرز و کوچز شہناز شیخ‘ اصلاح الدین‘ سعید خان اور سلیم شیروانی نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے پی ایچ ایف کے سرپرست اعلیٰ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور سینیٹ و قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وطن واپسی پر قومی ٹیم کی شکست اور غیرمعیاری کارکردگی کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔قومی کھیل کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس کا نوٹس لیا جائے۔ شہناز شیخ اولمپیئن سابق منیجرز و کوچ نے کہا کہ ہم نے تو اپنے موبائل فون بند کر دئیے ہیں۔ شائقین ہاکی اور کھلاڑی ہم سے سوال کر رہے ہیں ہم انہیں کیا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ اولمپکس کے بعد سے قومی ٹیم موجودہ منیجمنٹ (منیجر آصف باجوہ اور کوچ شاہد علی خان) کے پاس ہے‘ وہ پونے دو سالوں میں ٹیم میں کیا بہتری لائے۔ سابق منیجر و کوچ اصلاح الدین اولمپیئن نے کہا کہ اولمپکس میں ہماری آٹھویں اور عالمی سطح پر ساتویں پوزیشن تھی۔ اب ہم اس ورلڈ کپ میں نویں اور دسویں پوزیشن کے لئے کھیلیں گے۔ پی ایچ ایف کے دعوے کہاں گئے۔ اولمپیئن سعید خان سابق منیجر نے کہا کہ ٹیم منیجمنٹ کہیں بھی نظر نہیں آئی‘ ٹیم ایسے کھیل رہی تھی جیسے کوئی مقامی کلب میچ کھیل رہی ہو۔ اتنی شرمناک شکست کی تحقیقات ہونی چاہیئے اگر وزیراعظم پی ایچ ایف کو کروڑوں روپے فنڈز دیتے ہیں تو قومی پیسے کا حساب کتاب بھی لی جائے۔ ٹیم نے کیوں غیرمعیاری کارکردگی دکھائی اس کا ذمہ دار کون ہے؟ سابق اولمپیئن گول کیپر سلیم شیروانی نے کہا کہ قومی ٹیم کھلاڑیوں کا نہیں عام افراد کا مجموعہ دکھائی دے رہی تھی‘ ماسوائے سپین تمام ٹیموں کے خلاف ہماری ٹیم نے انتہائی غیرمعیاری کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ٹیم منیجمنٹ سے اس کارکردگی کی رپورٹ طلب کی جائے۔ ماضی میں ہاکی نے ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ اب وہی ہاکی ملک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے بھی وزیراعظم سے ٹیم کی شکست کی انکوائری کا مطالبہ کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions