اسلام آباد (اے این این/ریڈیو نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے آسٹریلیا کے ہاتھوں قومی کرکٹ ٹیم کی شرمناک شکست پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا جبکہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے ذمہ داروں کیخلاف ایکشن نہ لینے پر چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو طلب کر لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر کھیل اور اعجاز بٹ میں تلخی پر اراکین کے احتجاج پر اعجاز بٹ خاموش ہو گئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کا اجلاس بدھ کو یہاں پارلیمنٹ ہاوس میں چیئرمین جمشید دستی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ، وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی، وزیر کھیل سندھ محمدعلی شاہ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اسماعیل قریشی، جاوید میانداد، وسیم باری اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آسٹریلیا سے شکست پر قوم بھی شرمندہ ہے۔ آفریدی نے بال ٹمپرنگ کرکے زیادتی کی، پوری دنیا میں بدنامی ہوئی۔ انہوں نے اعجاز بٹ سے کہا کہ وہ مستعفی ہو جائیں کیونکہ وہ معاملات نہیں چلا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے اکا¶نٹس منجمد کرنے کیلئے سٹیٹ بنک کو خط لکھوں گا۔ وزیر کھیل کیخلاف بین دینے پر محمد الیاس سلیکٹر کو برطرف کیا جائے۔ اراکین کمیٹی نے متفقہ طور پر اعجاز بٹ سے استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ اوور ایج ہو چکے ہیں، فوراً کرکٹ کا عہدہ چھوڑ دیں۔ پوری قوم اور میڈیا استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وسیم باری نے کہا کہ آسٹریلیا سے شکست کی تحقیقات کیلئے قائم 6 رکنی کمیٹی فروری کے آخر میں رپورٹ دے گی۔ وسیم باری نے کہا کہ ہم میرٹ پر تحقیقات کریں گے اور کسی کو فیور نہیں کریں گے۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ تحقیقاتی کمیٹی میں نیوٹرل افراد کو لیا جائے، موجودہ کمیٹی تو اعجاز بٹ کو فیور کرے گی۔ وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی میری بات نہیں مانتے بلکہ ایک بندے سے میرے خلاف بیان دلوا دیا ہے۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ وزیر کھیل کا موقف درست نہیں۔ اعجاز بٹ اور اعجاز جاکھرانی کی تلخی پر اراکین کمیٹی نے احتجاج کیا اور اعجاز بٹ سے معافی کا مطالبہ کیا۔ بعض اراکین نے بائیکاٹ کی بھی دھمکی دی۔ نسیم اختر نے اعجاز بٹ کو ڈانٹ دیا اور کہا کہ وہ اپنی حدود میں رہیں اور وفاقی وزیر کا احترام کریں۔ ممبر بورڈ پی سی بی شکیل شیخ نے کہا کہ اعجاز بٹ نے کرکٹ کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور کرپشن کی جا رہی ہے۔ وسیم باری اس کا ٹاوٹ بنا ہوا ہے۔ چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے کہا کہ میرے خلاف بولنے والے چور دروازے سے دوبارہ پی سی بی کا عہدہ لینا چاہتے ہیں مگر انہیں نہیں ملے گا۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ آئی پی ایل سے پاکستانی کھلاڑیوں کو سازش کے تحت علیحدہ کیا گیا، معاملہ 10 فروری کو آئی سی سی اجلاس میں اٹھائیں گے۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر محمد الیاس کی وفاقی وزیر کے خلاف بیان پر جواب طلبی کی جائے گی۔ وفاقی وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی نے اجلاس میں کہا کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی بے عزتی کے بعد پاکستان بین الاقوامی ایونٹس کے سوا بھارت کے ساتھ کھیلوں کے روابطہ نہیں رکھے گا۔
Post New Comment