لاہور (اشرف چودھری) 2010ءپاکستان ریسلنگ کیلئے ایک کامیاب ترین سال ثابت ہوا جس میں فروری 2010ءمیں بھارت کے شہر جالندھر میں منعقد ہونے والی کامن ویلتھ ریسلنگ چیمپئن شپ میں پاکستان کے 7 پہلوانوں نے حصہ لیا جن میں محمد عمر پہلوان نے سلور جبکہ بشارت علی محمد سلیمان‘ محمد علی اور علی عمران نے برانز میڈلز حاصل کئے مجموعی طور پر پاکستان نے 6 میڈلز جیتے اکتوبر 2010ءمیں بھارت میں منعقد ہونے والی کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی جانب سے 55 کلو گرام کی ویٹ کیٹیگری میں اظہر حسین جبکہ 84 کلوگرام کی ویٹ کیٹیگری میں محمد انعام نے گولڈ میڈل حاصل کئے جبکہ نومبر میں چین میں منعقد ہونے والی ایشین گیمز میں پاکستانی پہلوانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام سال میں سینئر اور جونیئر ریسلنگ چیمپئن شپ کے علاوہ بیچ ریسلنگ چیمپئن شپ کرائی گئی۔ ڈومیسٹک سطح پر گراس روٹ لیول پر کنوینئر وزیراعلیٰ پنجاب برائے ریسلنگ محسن ارشد نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں (سیالکوٹ‘ گوجرانوالہ‘ شیخوپورہ‘ ننکانہ صاحب‘ منڈی بہاوالدین‘ لاہور‘ نارووال) کامیاب ترین خادم اعلیٰ پنجاب دنگلوں کا انعقاد کرکے اس مردہ کھیل میں جان ڈالنے کیلئے مثالی کردار ادا کیا۔ ان دنگلوں کی صورت میں محمد انعام‘ طاری پہلوان‘ عثمان بٹ جیسے کئی نوجوان پہلوان سامنے آئے۔ لاہور ریسلنگ ایسوسی ایشن نے پہلی لاہور ریسلنگ چیمپئن شپ جبکہ رمضان المبارک میں جونیئر پہلوانوں کیلئے میٹ ریسلنگ ٹریننگ کیمپ کا انعقاد بھی کیا اور متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے امدادی دنگل بھی کروایا گیا۔ اگر ماضی کے مقابلے میں موازنہ کیا جائے تو کم بجٹ ہونے کے باوجود پاکستانی ریسلنگ دن بدن ترقی کی طرف گامزن ہے اور ریسلنگ میں پڑھا لکھا ٹیلنٹ بھی سامنے آیا ہے۔ پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے سال بھر میں قومی پہلوانوں کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔
Post New Comment