ذرائع کے مطابق برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو جو ویڈیو اور ثبوت فراہم کئے ہیں وہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ فراہم کی گئی ویڈیو میں تاریخ اور وقت نہیں ہے۔ پولیس کے خیال میں لارڈز ٹیسٹ میں پاکستانی بالرز کی جانب سے نو بالز بہت پہلے ہی ہو چکی تھیں لیکن اس حوالے سے میچ فکسر کی ویڈیو بعد میں بنائی گئی۔ تحقیقاتی ٹیم اس معمے کو بھی حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستانی بالرز نے لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے روز نوبالز کیں لیکن برطانوی اخبار نے رپورٹ دو دن بعد کیوں شائع کی۔ ذرائع کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کو ویڈیو میں دکھائے گئے ان نوٹوں پر بھی شک ہے کہ آیا وہ دس ہزار برطانوی پاؤنڈز ہیں بھی یا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ میچ فکسر مظہر مجید کا پاکستانی فاسٹ بالرز محمد عامر اور محمد آصف کے ساتھ کوئی رابطہ ہے۔
Post New Comment