لاہور (سٹاف رپورٹر ) پیپلز پارٹی پنجاب اور لاہور کے رہنماﺅں نے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی طرف سے گورنر پنجاب کیخلاف غیر پارلیمانی بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں لہٰذا ن لیگ اپنے دیگر وزراءکو انکے باولے پن سے بچانے کے لئے فوری طور پر رانا ثنا کو پاگل خانے میں جمع کرا دے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے قائم مقام صدر سمیع اللہ خان اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل عثمان ملک نے کہا کہ وزیر قانون کو اب فوری طور پر دماغی علاج کی ضرورت ہے، انہیں جگتوں کا اتنا ہی شوق ہے تو وزارت سے الگ ہو کر اپنا شوق پورا کر لیں۔ پی پی لاہور کے صدر چودھری اصغر اور نائب صدر احسان گنجیال نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے لگتا ہے کہ انہیں روزانہ 12ٹیکے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر اپنے حواس کھو چکے ہیں اسی لئے ہم نے انہیں پارٹی سے فارغ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کہیں صوبائی وزیر میاں برادرن کی حواس بھی نہ لے بیٹھیں۔ پنجاب میں صدر مملکت کے کوآرڈینیٹر نوید چودھری نے کہا کہ رانا صاحب باولے ہو کر بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں اور اسی لئے انہوں نے جانوروں جیسی باتیں شروع کر دی ہیں کیونکہ ماضی میں جب وہ پی پی میں تھے تو نظریاتی کارکن تھے اب وہ ن لیگ میں جا کر محلاتی کارکن بن گئے ہیں اور اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایسے بیانات داغ رہے ہیں۔ دریں اثناءپیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فخر الدین چودھری نے اپنے بیان مےں کہا ہے کہ رانا ثناءاللہ نظریاتی سے درباری بن چکے ہےں۔ انہیں صوبے کے سنگین حالات پر کوئی تشویش نہیں ہے، وہ محض اپنے پلازے کو بچانے کےلئے وزیراعلیٰ کی خوش آمد مےں لگے ہوئے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے کندھوں پر بیٹھ کر سیاست کرنے والے رانا ثناءاللہ دہشت گردوں پر قابو نہیں پاسکتے، پنجاب حکومت کو ایسے نااہل وزیر کو فی الفور برطرف کر دینا چاہیے۔ آمریت کی پیداوار ملک مےں صدر آصف علی زرداری کی مفاہمت کی سیاست سبوتاژ کر کے جمہوری اداروں کو کمزور کرنا چاہتے ہےں عوام ان کی سازش کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
Post New Comment