فیس بک اور یو ٹیوب پر مستقل پابندی لگائی جائے : توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج جاری

ـ 30 جون ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (خصوصی نامہ نگار) گستاخانہ خاکوں اور قرآن مجید کے غلط ترجمہ کی اشاعت کیخلاف تحریک حرمت رسول کا احتجاج گذشتہ روز بھی جاری رہا۔ گھرکی ہسپتال لاہور میں ڈاکٹروں نے حرمت رسول سیمینار کا انعقاد کیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی جبکہ شاہدرہ، نارووال، سیالکوٹ اور اوکاڑہ میں تحریک حرمت رسول کانفرنسیں اور جلسے منعقد کئے گئے جن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ فیس بک اور یو ٹیوب پر مستقل پابندی لگائی جائے۔ مسلم حکمران ماضی میں گستاخ ملکوں کو سخت جواب دیتے تو انہیں ایسی مذموم حرکتوں کی جرا¿ت نہ ہوتی۔ تفصیلات کے مطابق دینی و سماجی جماعتوں کی طرف سے گذشتہ روز بھی نبی اکرم کی حرمت کے تحفظ کے لئے جلسوں، حرمت رسول سیمینار اور کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہا۔ گھرکی ہسپتال میں تحفظ حرمت رسول کے حوالہ سے ایک بڑے حرمت رسول سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سے جماعة الدعوة شعبہ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحفظ حرمت رسول کی تحریک پوری قوت سے جاری ہے اور جاری رہے گی، مسلمان ڈالر اور یورو کی غلامی سے نکلیں، اپنی الگ کرنسی اور مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دیں، دفاعی و معاشی طور پر خود کو مضبوط بنائے، بغیر کفار کی سازشوں کو ناکام بنانا ممکن نہیں ہے، مسلم حکمران اسلام و مسلمانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دیں وہ کفار کی غلامی سے نکل آئیں تو صلیبیوں ویہودیوں کو کبھی شان رسالت میں گستاخیوں کی جرا¿ت نہیں ہو گی۔ پراچہ کالونی شاہدرہ میں حرمت رسول سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں تحریک حرمت رسول اور جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما مولانا بشیر احمد خاکی، مولانا مزمل رشید، مولانا محمد حسن صارم اور اسحاق قاسم و دیگر نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ شان رسالت میں گستاخیاں کرنے والوں کی آنکھیں پھوڑ اور قلم توڑ دئیے جائیں گے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے سب سے بڑے مجرم مسلم حکمران ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیرت رسول کے پیغام کو پوری دنیا میں عام کریں گے، قریہ قریہ شہر شہر مسلمانوں کو تحفظ حرمت رسول کے لئے متحد و بیدار کریں گے۔ سیالکوٹ، نارووال اور اوکاڑہ میں کانفرنسوں سے مولانا غلام قادر سبحانی، احمد سعید ملتانی، حافظ سیف اللہ اعظم، قاری گلزار احمد، حافظ عبداللہ حنیف، مولانا محمد یونس قصوری و دیگر نے خطاب کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions