سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقات آخری مراحل مےں، 150سے زائد افراد کے بیانات قلمبند

ـ 29 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

سیالکوٹ / لاہور (نامہ نگار/ جی این آئی) تےرہ روز قبل تھانہ صدر سیالکوٹ کی حدود میں پولیس کی موجودگی میں ڈاکو قراردے کر دیہاتےوں کے وحشیانہ تشدد سے جاں بحق ہونے والے دو حقیقی بھائیوں کے قتل اور نعشوں کی بے حرمتی کے مقدمہ کی تحقےقات آخری مراحل میںداخل ہوگئی ہیں اور پولیس نے مقدمہ میںنامزد 30 ملزما ن میں سے چھ پولیس اہلکاروں سمیت 23 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے تاہم مفرورمعطل ایس ایچ او انسپکٹر رانا الیاس سمیت سات ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے ہےں۔ جی این آئی کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مشتاق سکھیرا کی سربراہی مےں تفتیشی ٹیم نے تحقیقات مکمل کر لی ہےں۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے 150سے زائد افراد جن مےں موقع پر موجود پولیس افسران، اہلکاران اور دیگر شہری شامل ہےں کے بیانات قلمبند کر لیے ہےں۔ ذرائع کے مطابق ٹیم نے اپنی رپورٹ مےں کہا ہے کہ موقع پر موجود پولیس افسر و اہلکار، ریسکیو ملازمین اور عام افراد برابر کے شریک ہےں۔ یہ رپورٹ جلد ہی وزیراعلیٰ کو پیش کر دی جائے گی۔ دریں اثناءنامہ نگار کے مطابق تفتیشی ٹیم نے ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کے قبضہ سے برآمد ہونے والے دو پستول ، گولیوںسے بھری بیلٹ ، کٹر ، موٹرسائیکل، ایک بےگ اور موبائل فون بھی قبضہ میںلے لئے ہیں۔اس مقدمہ میں نامزد17ملزمان علی، امین ، عامر ، قیصر، ناصر، اکبر ، شوکت ، جمیل عرف جیلہ، دلاور ، حسن، شکیل ، شمس، جمشید ، جاوید عرف جیدا، بشیر، شمس ولد شوکت ، قیصر جبکہ نامزد تےرہ پولیس ملازمین میںسے سب انسپکٹر گلزار خان ،اے ایس آئی اے ایس آئی سرفرارکے علاوہ چار کانسٹےبل یاسر ، محمد نواز ، یاسین اور محمد بشیر اب تک گرفتار کئے جاچکے ہیں جبکہ معطل ایس ایچ او انسپکٹر رانا محمد الیاس سمیت چھ اہلکار تاحال مفرور ہےں۔ پولیس نے موقع پرموجود سینکڑوں افراد میں سے موضع بٹر ، میانی اور پکی کوٹلی کے رہائشی 90 افراد کو بھی پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے جن کو پاکستان تعزرات دفعہ 114کے تحت باقاعدہ طور پر مقدمہ میںگرفتار کرنے کا امکان ہے۔ دریں اثناءذرائع کے مطابق ملزمان کو کل (سوموار) کو جسمانی ریمانڈ کےلئے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت گوجرانوالہ مےں پیش کیا جائے گا۔ ادھر پنجاب ہائی وے پٹرولنگ گوجرانوالہ کے ایس پی ڈاکٹر عابد نے موقعہ پر موجود ہونے کے باوجود دونوں بھائیوں کو دیہاتےوں سے چھڑوانے کی کوشش نہ کرنے پر پٹرولنگ پولیس کے پانچ اہلکاروں کو بھی معطل کردیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب ریٹائرڈجسٹس کاظم ملک بھی اپنی تحقےقاتی رپورٹ یکم ستمبرکو سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔
سانحہ سیالکوٹ

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions