متاثرین کے لیے ملنے والی امداد میں غبن ہورہا ہے:منور حسن

ـ 29 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اہور(خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہاہے کہ حکومت کومتاثرین کے لیے ملنے والی امداد میں غبن ہورہا ہے اور امداد وزیروں کے گوداموں میں پہنچ رہی ہے۔مرکز میںغیر جانبدار قومی کمشن نہ بننے سے نقد رقوم کرپشن و کمشن مافیا کے بنک اکاﺅنٹس میں چلی جائےں گی۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک ریلیف آپریشن جاری رکھیں گی۔ متاثرہ شہروں اور علاقوں سے کیچڑ ہٹانے اور متاثرین سے تعاون کے لیے قومی رضا کار فورس تشکیل دی جانی چاہئے۔ سانحہ سیالکوٹ پاکستان کے ماتھے پر بدنما داغ ہے، گذشتہ روز ملتان اور مظفر گڑھ میں ریلیف کیمپوں کے دورے کے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منورحسن نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بہت متحرک رہے ہیں لیکن سیلاب متاثرین کے دکھوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ نمائشی دورے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی کمشن بنانے کی تجویز مسلم لیگ ن کی تھی۔ اگر مرکز میں عمل نہیں ہوا تو پنجاب میں عمل کرنا چاہئے کیونکہ تباہی بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونر ایجنسیاں اور ادارے مرکزی حکومت کے خراب ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے اعتماد کرنے کو تیار نہیں، مرکزی سطح پر قومی کمشن تشکیل دیا جاتا تو حکومت کی ساکھ بہتر ہو سکتی تھی جبکہ قومی یکجہتی کو بھی فروغ ملتا۔منورحسن نے کہا کہ الطاف جاگیرداروں اور وڈیروں کا احتساب کرنا چاہتے ہیں مگر گزشتہ پچیس سال سے ان کی بے ساکھی بنے ہوئے ہیں۔ یہ بیان امریکی اشارے پر دیا گیا تھا جو فوج اور عوام کے خلاف سازش ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
منور حسن

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions