لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ضلعی ناظمین کی جگہ پر ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کے خلاف دائر درخواست میں وفاق اور صوبائی حکام کی طرف سے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت ہے کسی ٹی وی کا پروگرام نہیں۔ آئندہ تاریخ پر واضح طور پر بتائیں کہ بلدیاتی انتخابات کروانا وفاق کی ذمہ داری ہے یا پنجاب حکومت کی؟ ضمنی الیکشن ہو سکتے ہیں تو بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے جا سکتے اور مزید سماعت 31 اگست تک ملتوی کر دی۔ گذشتہ روز عدالتی احکامات کے باوجود سرکاری وکلا کی طرف سے جواب پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات چیف الیکشن کمشن کرواتا ہے جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ اگر پنجاب حکومت گرین سنگل دے تو چیف الیکشن کمشن آج ہی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر سکتا ہے۔ تاہم بار بار کے عدالتی استفسار پر وہ بلدیاتی انتخابات بارے کوئی بھی درست جواب نہ دے پایا تھا۔ جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ آئندہ تاریخ پر وفاق اور صوبائی حکومت سے واضح جواب لیکر پیش ہوں۔ یاد رہے کہ درخواست گذاروں 19 ضلعی ناظمین نے فواد چودھری ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ضلعی ناظمین کی جگہ پر ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جبکہ ایڈمنسٹریٹرز ترقیاتی فنڈز بھی استعمال نہیں کر سکتے جبکہ حکومت کی طرف سے نئے الیکشن بھی نہیں کروائے جا رہے لہٰذا ضلعی انتخابات کروانے کے احکامات جاری کیے جائیں اور جب تک نئی منتخب باڈی نہیں آجاتی اس وقت تک سابق ناظمین کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
ضمنی الیکشن
Post New Comment