لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے سیالکوٹ میں دیہاتیوں کی طرف سے دو طالب علم بھائیوں کو ڈاکو قرار دے کر بہیمانہ تشدد سے قتل کرنے کے واقعہ کی فوٹیج بنانے والے کیمرہ مین اور رپورٹر کو قتل کی دھمکیوں کے خلاف دائر درخواست پر آر پی او گوجرانوالہ کو 3 ستمبر کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ الیکٹرونگ میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین بلال خان اور رپورٹر حافظ عمران اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں مگر واقعہ کی رپورٹنگ کرنے پر انہیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ خدشہ ہے کہ انہیں قتل نہ کر دیا جائے چنانچہ ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے جائیں۔
سانحہ سیالکوٹ / نوٹس
Post New Comment