وزیر اعلیٰ پنجاب نے مختلف خدمات پر اضافی ٹیکس کی تجویز مسترد کر دی

ـ 28 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (سلمان غنی سے) پنجاب حکومت نے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال اور آنے والے مالی دبا¶ کے باوجود سیلاب ٹیکس سمیت مختلف مدات اور خدمات پر اضافی ٹیکس کی تجویز مسترد کر دی ہے‘ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکل کی اس صورتحال میں ہم متاثرین سیلاب کے لئے اقدامات کے ساتھ عوام کو مزید دبا¶ میں نہیں ڈالنا چاہتے‘ ہمیں معلوم ہے کہ پہلے ہی مہنگائی اور خصوصاً یوٹیلٹی بلز میں اضافے نے عوام کا جینا محال بنا رکھا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایوان وزیر اعلیٰ میں نوازشریف کی صدارت میں جہاں متاثرین کی مدد و بحالی کے لئے وسائل کی فراہمی کے عمل پر تبادلہ خیال ہوا وہیں یہ امر بھی زیر غور آیا کہ اضافی وسائل کے حوالے سے مختلف محکموں کی جانب سے اضافی ٹیکس لگانے کی تجاویز ہیں خصوصاً محکمہ مال‘ ایکسائز سمیت چار مختلف محکموں نے سفارشات دیں جس پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ ایک تو سیلاب کی وجہ سے عوام مسائل کا شکار ہیں‘ مہنگائی بڑھ رہی ہے‘ اشیائے ضروریہ کے ساتھ لوڈ شیڈنگ کا عذاب ہے‘ عوام کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے‘ بجلی کے نرخ بڑھائے جا رہے ہیں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ پھر ایسا اقدام عوام کی زندگیوں کو مزید تلخ بنا دے گا۔ ہم عوام پر براہ راست دبا¶ ڈالنے کی بجائے خود اپنے انتظامی اخراجات میں کمی لائیں گے‘ ہم عوام کو جینے کا حق دیں گے۔ مہنگائی زدہ عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ مخیر حضرات آگے آئیں اور ملک و قوم کا بوجھ بٹائیں‘ قوم نے ہمیشہ قربانی دی اب مشکل صورتحال میں وہ آگے آئیں جنہیں زیادہ ثمرات ملے۔ یاد رہے وزیر اعلیٰ کے مزید ٹیکس نہ لگانے کے اعلان پر خود بیوروکریسی میں چہ میگوئیاں شروع ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اضافی مالیاتی دبا¶ کا معاملہ صرف اضافی ٹیکسوں سے ہی ممکن ہے لیکن وزیر اعلیٰ نہ جانے کیوں اس سے گریز کر رہے ہیں‘ حکومت پنجاب کے ایک انتظامی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ عوام دوستی کا شوق فرما لیں پنجاب پر پڑنے والے اضافی دبا¶ کا مقابلہ آئندہ حالات میں ناممکن ہو گا۔ بیوروکریسی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے انہیں ٹیکس لگانے کی تجویز دے رہی ہے اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔ انتظامی ذرائع کے مطابق محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ حالات میں اضافی دبا¶ خود انتظامی مشینری پر آئے گا‘ یہ اچھی بات نہیں۔ اجلاس میں پنجاب پر سیلاب کے باعث آنے والے دبا¶ میں وفاقی حکومت کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔ مسلم لیگ کی قیادت کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے عزائم اچھے نہیں‘ وہ پنجاب حکومت کی معاونت کی بجائے مخاصمت کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ سیلاب کی آمد سے اب تک وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو نہ تو کوئی اضافی فنڈز دئیے بلکہ اس حوالہ سے حوصلہ تک نہیں دیا۔ شہباز شریف کا اصرار تھا کہ متاثرین سیلاب کی طرح ہم صوبہ کے عوام کی پریشانیوں اور مسائل میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔
پنجاب / ٹیکس

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions