لاہور (ندیم بسرا سے + نیوز رپورٹر + نامہ نگاران) محکمہ خوراک پنجاب کے افسران نے باردانے کی مصنوعی قلت پیدا کرکے باردانے کو کمیشن کے ساتھ فروخت کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ محکمہ کی انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث گندم کی خریداری مراکز پر باردانے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس سے کسان پریشان اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کھلی گندم ضائع ہونا شروع ہو گئی ہے اور کسان اونے پونے داموں گندم فروخت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ آڑھتی 7 سو روپے فی من گندم خرید رہے ہیں۔ ڈی سی او ننکانہ صاحب نے گندم خریداری مرکز میں باردانہ کی خوردبرد اور چوری میں ملوث محکمہ خوراک کے اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر اور سپروائزر کو گرفتار کرا کر مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ گندم خریداری مراکز ضلع شیخوپورہ کے کسان ممبر چودھری فرحان شوکت ہنجرا نے نارنگ منڈی مرکز خریداری گندم میں محکمہ ریونیو کے تحصیلدار غلام اعوان کی اقرباپروری اور من پسند افراد کو باردانہ فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے تحصیلدار کیخلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کئی کئی دن کے بعد لسٹوں میں نام ہونے کے باوجود کسانوں کو باردانہ نہیں مل رہا۔ علاوہ ازیں راجن پور‘ بہاولنگر‘ رحیم یار خان‘ صادق آباد‘ ملتان‘ مظفر گڑھ اور خانیوال کے اضلاع میں کسانوں کو باردانہ دستیاب نہیں ہے۔ اس سلسلے میں کسان تنظیموں کے سربراہان سلطان علی چودھری‘ ابراہیم مغل‘ رابعہ سلطانہ‘ چودھری منصور‘ عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر کا کہنا ہے کہ گندم کی کٹائی مکمل ہونے کے باوجود محکمہ خوراک خریداری مراکز پر کاشتکاروں کو باردانہ جاری نہیں کر رہا۔ علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع فیصل آباد،گجرات ،گوجرانوالہ ،خانیوال ،سرگودھا،ٹوبہ ٹیک سنگھ ،وھاڑی، ملتان ،اوکاڑہ ،قصور،شیخوپورہ میں گندم کی فی من خریداری میںکسانوں سے 50 روپے کی کٹوتی کی جارہی ہے تو دوسری جانب کسانوں کو فی ایکڑ بارادنے کی مد میں 50روپے رشوت وصول کی جارہی ہے ،محکمہ خوراک کے اہل کار تمام اضلاع میں کسانوں کا کھلے عام معاشی قتل کر رہے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تحصیل کی سطح پر کسانوںسے اس قسم کے معاملات عام ہو رہے ہیں اور کسانوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے کہ اس سلسلے میں خاموشی اختیا ر کی جائے ورنہ گندم خریدی نہیں کی جائے گی واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے ان اضلاع سے جتنی خریداری کا ہدف مقرر کیا تھا صرف کمیشن اور کرپشن کی وجہ سے ایک لاکھ 44 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی گئی جو ٹارگٹ سے کہیں کم ہے۔ دوسری طرف محکمہ خوراک کا پنجاب میں 50لاکھ ٹن گندم خریدنے کا 40 دن کا ٹارگٹ تھا مگر ابھی تک4 لاکھ ٹن گندم خریدی گئی ہے۔ ٹھینگ موڑ الہ آباد سے نامہ نگار کے مطابق خریداری مرکز پر گندم میں نمی کے نام پر کاٹ کے طور پر 100 بوری گندم میں سے ایک بوری لے لی جاتی ہے نہ دینے پر واپس کر دی جاتی ہے۔ زمینداروں کا کہنا ہے کہ باردانہ فرضی ناموں سے ہزاروں کے حساب سے آڑھتیوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور محکمہ فوڈ کے آڑھتی لوٹ رہے ہیں۔ ادھر ڈی سی او ننکانہ صاحب نبیل جاوید نے گندم خریداری مرکز ننکانہ صاحب میں باردانہ کی خوردبرد اور چوری میں ملوث محکمہ خوراک ننکانہ کے اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر افضال سرور اور سپروائزر خواجہ شہریار کو گرفتار کراکے مقدمہ درج کرا دیا۔ اسسٹنٹ فوڈ کنٹرول افضال سرور نے کہا کہ گندم سنٹر ننکانہ سے باردانہ کی چوری کا کوئی علم نہیں جبکہ فوڈ سپروائزر خواجہ شہریار کا کہنا ہے کہ چند افراد جو کہ اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں مجھ سے باردانہ لینے کیلئے دباﺅ ڈالتے رہے جب میں نے ان کو باردانہ نہ دیا تو انہوں نے سازش کے تحت گرفتار کرایا ہے۔
Post New Comment