اسلام آباد (جاوید صدیق) بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھارتی خارجہ امور کی وزارت کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو تین ڈوسیئرز دئیے ہیں جن میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 34 مبینہ دہشت گردوں کو بھارت کے حوالے کرے‘ جن افراد کو مانگا گیا ہے ان میں حافظ سعید احمد اور الیاس کشمیری شامل ہیں۔ گذشتہ روز دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کے دوران یہ تینوں ڈوسیئرز پاکستان کے حوالے کئے کئے گئے جو دوسرے 34 افراد پاکستان سے طلب کئے گئے ہیں ان میں دا¶د ابراہیم کا نام بھی شامل ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں بھارت نے دہشت گردی کا نیٹ ورک ختم کرنے کے مطالبہ پر زور دیا جبکہ پاکستان کی طرف سے کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کے جواب میں بھارت نے کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا اور پانی کے مسئلہ پر بھارت کا م¶قف ہے کہ پانی کا مسئلہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت ہونا چاہئے۔ واضح رہے کہ بھارت مسلسل اسی سمجھوتے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان معطل ہونے والے جامع مذاکرات کی بحالی کی باضابطہ کوششیں بارآور ثابت ہو گئی ہیں‘ دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان باضابطہ ملاقات میں بھارت کی جانب سے دیگر مسائل پر بات چیت کرنے کی بجائے ممبئی حملوں کے حوالے سے مزید تین ڈوسیئر پاکستان کے حوالے کئے گئے ہیں جن میں بھارتی مجاہدین اور خالصتان کے علاوہ واقعہ ممبئی کے مبینہ ماسٹر مائنڈ جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید اور دیگر افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا۔ خبررساں ادارے نے اعلیٰ حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر کو بھارتی ہم منصب نیروپما را¶ نے دو نئے ڈوسیئر حوالے کئے۔ پہلے میں پاکستان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ نہیں جبکہ اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کے علاوہ ممبئی حملوں میں مبینہ ملوث کالعدم لشکر طیبہ کے مزمل‘ ابوچمزہ‘ ابوخفا اور عثمان کو بھارت کے حوالے کرے۔ خبررساں ادارے کے مطابق ان تمام کا نام ممبئی حملوں کے حوالے سے تیار کی گئی چارج شیٹ میں بھی شامل ہے‘ بھارتی سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ الیاس کشمیری کے بارے میں بھی شواہد پاکستان کو دئیے گئے ہیں‘ پاکستان کالعدم تنظیموں کے بارے میں سنجیدہ اقدامات کرے۔ دوسری جانب پاکستان نے کہا ہے کہ حافظ سعید سے متعلق دستاویزی ثبوت کو دیکھا جائے گا تاہم پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے ممبئی حملوں میں تحقیقات کے حوالے سے ہرممکن تعاون کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں کے حوالے سے جو ڈوسیئر دیا گیا ہے اس میں شامل مواد قانونی شواہد کی بجائے لٹریچر پر مبنی ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستانی عدلیہ نے حافظ سعید کے خلاف ثبوتوں کو ناکافی قرار دیا ہے۔ خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر نے کہا ہے کہ بھارت نے حافظ سعید کے بارے میں کوئی دستاویز نہیں بلکہ لٹریچر دیا ہے۔ انوہں نے کہا کہ حافظ سعید یا کوئی اور پاکستانی عوام کا نمائندہ نہیں۔ ان کے خلاف ممبئی حملوں کے حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں‘ شواہد ناکافی ہیں‘ اس حوالے سے سنگین غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دستاویزات میں عبدالرحمن مکی کا نام بھی درج ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت نے جو دستاویزات دی ہیں ان میں پاکستان کے میجر اقبال پر بھی ممبی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پہلی دستاویز میں ممبئی حملوں کی تحقیقات پر زور دیتے ہوئے حافظ سعید اور میجر اقبال سمیت 8 افراد کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایکشن لینے اور بھارت کے حوالے کرنے کا مطالبہ ک یا‘ بھارتی ٹی وی کے مطابق میجر اقبال کا نام امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی کی شکاگو میں گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے‘ دوسری دستاویز میں الیاس کشمیری پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ڈیوڈ ہیڈلی کا گرو تھا‘ 26/11 کے ممبئی حملوں کا اہم ترین کردار تھا۔ ڈیوڈ ہیڈلی سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ 2006ءاور 2009ءکے درمیان متعدد بار بھارت آئے اور ممبئی حملوں کے لئے 4 جگہوں کا معائنہ کیا۔ ٹی وی کے مطابق ایف بی آئی نے جو ای میل کے ترجمے کئے اس کے مطابق الیاس کشمیری کو القاعدہ کا کمانڈر بتایا گیا ہے انہیں لشکر طیبہ کا بھی اعلیٰ ترین عہدےدار بتایا گیا ہے‘ پونا بم حملوں کے بعد الیاس کشمیری نے پاکستانی ویب سائٹ ای میل کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی لوگ ہاکی کے ورلڈ کپ اور کامن ویلتھ گیمز کے لئے بھارت نہ جائیں۔ ٹی وی کے مطابق تیسری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ”انڈین مجاہدین“ اور خالصتان کے حامیوں کی مدد کر رہا ہے‘ بھارت نے یہ الزام بھی لگایا کہ گذشتہ ماہ پونا میں ہونے والے بم دھماکے میں ”انڈین مجاہدین“ اور ”لشکر طیبہ“ نے مل کر کارروائی کی تھی۔
بھارت / ڈوسیئر
Post New Comment