محکمہ لائیو سٹاک میں کروڑوں کے گھپلوں کی انکوائری ٹھپ ‘ کسی افسر کو سزا نہ ہو سکی

ـ 23 نومبر ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور(اشرف چودھری) صوبے میں گڈ گورننس کے دعو¶ں کے باوجود محکمہ لائیو سٹاک پنجاب میں کروڑوں روپے کے گھپلوں میں ملوث کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور انکوائری کو صرف شوکاز تک ہی محدود کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کے بارانی پروڈکشن ریسرچ انسٹیٹوٹ خیری مورت اٹک کے ڈائریکٹر سمیت متعدد افسران دو مرتبہ ہونے والے انکوائری میں ذمہ دار بھی قرار پائے لیکن تاحال کسی بھی شخص کو سزا نہیں دی گئی۔ ذرائع کے مطابق خیری مورت انسٹیٹوٹ کے تمام گھپلوں میں ڈائریکٹر انسٹیٹوٹ خدا بخش بلوچ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے فتح جنگ کے نیشنل بنک کی برانچ سے 19 لاکھ 77 ہزار روپے سرکاری اکا¶نٹینٹ سے نکال کر انہیں اپنے نام نہاد بیٹے فیصل بلوچ کے ایس ای ایم بنک اسلام آباد کے اکا¶نٹنٹ میں جمع کرا دئیے۔ محکمانہ انکوائری میں اکا¶نٹنٹ محمد یعقوب کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ جبکہ انمول ونڈا کی خریداری میں بھی گھپلے پائے گئے۔ انسٹیٹیوٹ کے سٹاک میں سے 21 لاکھ روپے مالیت سے زائد رقم کا انمول ونڈا سٹاک میں کم پایا گیا جبکہ اس کے علاوہ 450 روپے کے حساب سے 15 سو بیگز 557 روپے کے حساب سے 59042 کی مزید خریداری شو کی گئی ہے انمول ونڈا کی مد میں ساڑھے 28 لاکھ روپے کا گھپلا پایا گیا۔ بارائی پروڈکشن انسٹیٹیوٹ میں درختوں کی کٹائی میں بھی غیر قانونی طریقہ کار اپنایا گیا۔ انسٹیٹیوٹ کی ایڈمنسٹریشن نے 135 درختوں کی نیلامی بغیر کسی ٹینڈر کے کر دی جبکہ اس کے علاوہ 317 درختوں کی کٹائی کی منظوری حاصل کرنے کے بعد موقعہ سے 736 درختوں کو کٹوا دیا گیا۔ انسٹیٹیوٹ کی گاڑیوں کی مرمت کے حوالے سے بھی جعلی رسیدوں کے ذریعے بھاری رقوم حاصل کی گئی۔ حقیقت میں تمام گاڑیاں ناکارہ حالت میں پائی گئی تھیں۔ ڈیزل کی خریداری کے سلسلہ میں بھی پونے چار لاکھ روپے کی جعلی رسیدیں بنا کر رقم حاصل کی گئی۔ ڈائریکٹر بارانی انسٹیٹیوٹ خیری مورت نے منسٹری آف فوڈ ایگریکلچر اینڈ لائیو سٹاک کی طرف سے تین لاکھ دس ہزار روپے کی ملنے والی گرانٹ جو کہ لائیو سٹاک سروسز کی بہتری کے پراجیکٹ میں چارپائیوں کی خرید کے لئے دی گئی تھی ڈیرہ پراجیکٹ منصوبے کے لئے چارپائیوں کی خریداری کیلئے اسی بل سے خریدی گئی چارپائیوں کو ڈیرہ پراجیکٹ میں بھی شو کرا دیا گیا۔ ایک ہی آئٹم کے لئے دو مرتبہ سرکاری رقم نکلوائی گئی اس میں ڈائریکٹر سمیت جونیئر کلرک کی ذمہ دارقرار دیا گیا تھا۔ انسٹیٹیوٹ کیلئے خریدی گئی 310 بکریوں کی خریداری کے وقت ہر جانور کی قیمت میں دو ہزار روپے کا اضافی بل بنوایا گیا۔ انسٹیٹیوٹ میں بغیر ٹینڈر جاری کئے ایک ہی فرم شاہین ٹینڈرز سے 18 لاکھ روپے مالیت کی مختلف اشیاءخریدی گئیں۔ اس کے علاوہ انسٹیٹیوٹ میں جونیئر سٹاف کی غیر قانونی ترقی جیسے دیگر معاملات بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹری لائیو سٹاک کی جانب سے انکوائری کمیٹی بنائی گئی جس کی رپورٹ آنے کے بعد ایک تین رکنی الگ کمیٹی بھی بنائی گئی تھی جس نے پہلی انکوائری رپورٹ کو درست قرار دیا تھا۔ اس کے بعد ذمہ داران افراد کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے اور تمام افراد کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے اور تمام افراد کے بیانات قلمبند ہونے کے باوجود بھی کوئی رزلٹ حاصل نہیں ہو سکا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions