لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو سرسٹھ سے نذیر جٹ اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ دو سو انسٹھ سے سردار اللہ وسایا کو ضمنی الیکشن لڑنے سے روک دیا ہے۔

ـ 22 اپریل ، 2010
  • Adjust Font Size
لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو سرسٹھ سے نذیر جٹ اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ دو سو انسٹھ سے سردار اللہ وسایا کو ضمنی الیکشن لڑنے سے روک دیا ہے۔

جسٹس ناصر سعید شیخ ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس محمد انوار الحق پر مشتمل الیکشن ٹربیونل کے سامنے  نذیر جٹ اور سردار اللہ وسایا کے خلاف نااہلی کی درخواستیں زیر سماعت تھیں۔
درخواست گزار ساجد مہدی نے نذیر جٹ کے خلاف موقف اختیارکیا تھا کہ نذیر جٹ کچھ ہی دن پہلے جعلی ڈگریوں کے کیس کی بنا پر استعفیٰ دے چکے ہیںاور اس کا مطلب  ہے کہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ جعلی ڈگری رکھتے ہیں ۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ نذیر جٹ کا جعلی ڈگری رکھنے کا اقدام جھوٹ اور فراڈ کے زمرے میں آتا ہے اور آئین کی دفعہ باسٹھ ایف کے تحت وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی دو سو انسٹھ سے امیدوار سردار اللہ وسایا کے خلاف درخواست گزار مخدوم سید باسط احمد سلطان نے بھی مذکورہ موقف اختیار کرتے ہوئے انکی  نا اہلی کی درخواست کی تھی۔ جس پر لاہور ہائیکورٹ ک الیکشن ٹربیونل نے نذیر جٹ اور سردار اللہ وسایا کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions