لاہور (اپنے نمائندے سے) محکمہ تعلیم پنجاب کے انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق پنجاب بھر کے تعلیمی بورز کے زیر اہتمام 23 مارچ کو منعقد ہونے والے میٹرک کے سالانہ امتحان ملازمین کی ہڑتال کے باعث مقررہ تاریخ سے 20 سے 25 روز تک ملتوی ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرک کے امتحانات کا شیڈول درہم برہم ہونے سے بی اے‘ بی ایس سی کے سالانہ امتحانات بھی براہ راست متاثر ہوں گے کیونکہ پنجاب بھر میں ان امتحانوں کے لئے تقریباً 900 سے زائد امتحانی مراکز بنتے ہیں اور انہیں سنٹرز سے بورڈز کے علاوہ تمام یونیورسٹیاں اور کالجز بھی مستفید ہوتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کے زیر اہتمام ساڑھے 4 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات میٹرک کے سالانہ امتحان میں شرکت کریں گے جبکہ پنجاب بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کو ملا کر تمام امیدواروں کی تعداد تقریباً 18 سے 20 لاکھ کے درمیان ہے جو امتحانی شیڈول میں تبدیلی سے متاثر ہوں گے۔ لاہور بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر نے تسلیم کیا ہے کہ اگر تین چار روز کے اندر بھی ملازمین ہڑتال کی کال واپس لے کر دن رات بھی ایک کر دیں تو بھی لاہور بورڈ کے زیر اہتمام ان امتحانوں کے لئے شیڈول کے مطابق 900 سے زائد سنٹرز نہیں بنائے جا سکتے اور نہ ہی ٹیکنیکل امتحانی کام سمیت سٹاف کو متعین کیا جا سکتا ہے اس لئے امتحانات لیٹ ہونے کا 90 فیصد امکان ہے۔ یہ بھی امر قابل ذکر ہے کہ بورڈز کے اعلیٰ حکام پنجاب حکومت کو اپنی ”پھرتیاں دکھانے اور گڈ مینجمنٹ“ کے چکر میں یہ بیان دیتے رہے کہ ہم اس بحران پر قابو پاتے ہوئے شیڈول ڈسٹرب نہیں ہونے دیں گے مگر اب تسلیم کرنے لگے ہیں کہ بروقت امتحانات ناممکن ہیں۔ مذکورہ بحران پر آج سیکرٹریٹ میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے تمام بورڈز کے چیئرمینوں کا ایک اہم اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ دوسری طرف بورڈز ملازمین کے ساتھ اب تک ہونے والے مذاکرات بھی نتیجہ خیز نہیں ہو رہے۔ جب تک ہمیں کوئی ذمہ دار شخصیت گرانٹ جاری کرنے کا اعلان نہیں کرتی تو ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
Post New Comment