لاہور (سلمان غنی سے) پنجاب حکومت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے رجحانات کے خاتمہ کے لئے صوبہ بھر کے اضلاع خصوصاً بڑے شہروں میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے دہشت گردی و شدت پسندی میں ملوث عناصر‘ ان کی پناہ گاہوں اور ان کے سرپرستوں کا کھوج لگا کر انہیں ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا‘ مذکورہ آپریشن میں بعض حساس ادارے بھی معاونت کریں گے۔ مذکورہ فیصلہ وزارت داخلہ کی جانب سے پنجاب کو بھیجی جانے والی ان رپورٹس کی بنا پر کیا گیا جس میں پنجاب حکومت کو بتایا گیا کہ متعدد دہشت گرد خودکش جیکٹس کے ہمراہ پنجاب کے بڑے شہروں خصوصاً راولپنڈی‘ لاہور‘ فیصل آباد‘ ملتان سمیت دیگر میں داخل ہو چکے ہیں اور اس حوالہ سے حکومت کو ضروی بندوبست اور سکیورٹی اقدامات کرنے چاہئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ رپورٹس کی روشنی میں پنجاب کے اہم شہروں کے انتظامی ذمہ داران کو اپنے اپنے شہروں اور اضلاع میں سکیورٹی انتظامات کو ممکن بنانے کے ساتھ دہشت گردوں کا کھوج لگانے‘ مشکوک افراد پر نظر رکھنے اور سکیورٹی اداروں کو متحرک بنانے اور پولیس پٹرولنگ کا سسٹم موثر بنانے کی ہدایات دی ہیں اور کہا ہے کہ اس حوالہ سے حساس اداروں اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں کے درمیان مکمل کوآرڈینیشن قائم رکھنی چاہئے۔ عوام کے تمام طبقات خصوصاً علما‘ تاجروں‘ اراکین اسمبلی سے رابطہ کر کے انہیں اعتماد میں لیا جائے۔ بڑے شہروں کی بعض آبادیوں میں سرچ آپریشن بھی کیا جائے گا جن کے حوالہ سے انتظامیہ کے پاس معلومات ہیں کہ یہاں مشکوک افراد رہتے ہیں یا ان کے پاس مشکوک افراد کا آنا جانا ہے‘ حکومتی ذمہ دار ذرائع کے مطابق مذکورہ آپریشن کے تحت شہروں اور اس کے ارد گرد قائم ہوٹلوں‘ مہمان خانوں اور گیسٹ رومز میں بھی ٹھہرے لوگوں سے چھان بین کرنے اور ان کے ذمہ داران کو اپنے مہمانوں کا ریکارڈ رکھنے کے لئے کہا جائے گا۔ پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی سے ملاقات بھی بعض سکیورٹی معاملات پر تھی اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے انہیں پنجاب کے اندر دہشت گردی کے رجحانات اور واقعات کے سدباب کے لئے اقدامات سے آگاہ کیا اور واضح کیا کہ مسلح افواج کی طرح پنجاب حکومت بھی دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے اور انہیں ان کے انجام پر پہنچانے کے لئے ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کرے گی۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت کے انتظامی ذرائع کے مطابق شہروں کے اندر دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ ایسا کرنے والے باہر سے نہیں آتے بلکہ شہروں کے اندر ہی مقیم ہوتے ہیں اور مذکورہ آپریشن کے ذریعہ ایسے عناصر کا کھوج لگانے اور انہیں ان کے انجام پر پہنچانے کی مکمل پلاننگ کر لی گئی ہے۔
Post New Comment