تازہ ترین:

”موثر جمہوریت مضبوط سیاسی جماعتوں، متحرک کارکنوں سے مشروط ہے“

ـ 14 جولائی ، 2011
  • Adjust Font Size

لاہور (خبر نگار خصوصی/ لےڈی رپورٹر) موثر جمہوریت مضبوط سیاسی جماعتوں اور متحرک سیاسی کارکنوں سے مشروط ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ہاوس میں خواتین سیاسی کارکنوں کی استعداد کار بڑھانے اور ان کے مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ ورکشاپ کا اہتمام ڈاکٹر نبیلہ طارق نے کیا اور ورکشاپ کے مقاصد بےان کئے۔ آئمہ محمود نے کہا کہ خواتین کے مسائل پر حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے جان بوجھ کر ایوانوں کے اندر ان کے مسائل پر بات چیت نہیں کی جاتی۔ نوائے وقت کے چیف رپورٹر سلمان غنی نے کہا کہ آج کی حکومت کا قیام سیاسی کارکنوں خصوصاً خواتین کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ 12 اکتوبر 1999ءکے بعد کلثوم نواز گھر سے باہر نکل کر آمریت کو چیلنج نہ کرتیں تو آج مسلم لیگ (ن) کی یہ طاقت نہ ہوتی اور پنجاب میں حکومت نہ ہوتی لیکن وہ خواتین سیاسی کارکن جو جنرل مشرف کے دور میں لاٹھیاں کھاتی جیلوں میں جاتی نظر آتی تھیں وہ اسمبلیوں میں نظر نہیں آتیں۔ یہی ہمارا سیاسی المیہ ہے کہ ماریں کھانے والے سیاسی کارکن اور ہیں اور حکومتوں کے مزے اڑانے والے اور ہیں۔ میاں حبیب اللہ نے کہا کہ خواتین کو سیاسی جماعتوں کے اندر اپنی آواز موثر بنانا ہو گی۔ میاں غلام حسین شاہد نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا اصل اثاثہ سیاسی کارکن ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے سیاسی کارکنوں کو پذیرائی نہیں ملتی۔ ورکشاپ سے اےنکر پرسن نجم ولی خان نے بھی خطاب کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions