لاہور (اپنے نمائندے سے) وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو تعلیم و تحقیق کی حقیقی معنوں میں سرپرستی کرتے ہوئے بجٹ میں مجموعی قومی پیداوار کے کم از کم چار فیصد کو اس شعبے کو ترویج کے لےے مختص کرنا چاہےے۔ وہ نیشنل آڈیٹوریم متصل لاہور عجائب گھر میں تحریک استحکام پاکستان کونسل کے زیراہتمام قائداعظم گولڈ میڈل تقسیم کرنے کی تقریب سے شرکاءسے خطاب کر رہے تھے۔ وائس چانسلر نے تحریک استحکام پاکستان کونسل کے صدر شیربہادر چغتائی کو قائداعظم گولڈ میڈل عطا کرنے کی تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مادہ پرست دور میں جبکہ شخص محض اپنی ذات کی ترقی و مفاد کے لےے شب و روز کوشاں ہے۔ وہ وطن عزیز کا نام روشن کرنے والے افراد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں انہیں گولڈ میڈلز سے نواز رہے ہیں۔ ڈاکٹر کامران نے کہا کہ ہم نے مذہب اسلام کو محض چند عبادات کے مجموعے تک محدود کر دیا ہے جبکہ اسلام سونے سے لے کر میدان جنگ تک ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے۔ خداوند کریم کا شکر ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور عسکری و سیاسی مدبرانہ قیادت کی وجہ سے ہم نے ایٹم بم بنا لیا ورنہ شاید خاکم بدہن آج ایک ایک آزاد ملک کی حیثیت سے کرہ ارض پر ہمارا وجود بھی نہ ہوتا۔ تقریب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی ثریا اصغر، ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر مظفرآباد آزاد کشمیر ڈاکٹر صابر حسین عباسی نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں ڈاکٹر مجاہد کامران نے تحریک استحکام پاکستان کی جانب سے 70 سے زائد مختلف شعبوں میں نمایاں و گرانقدر خدمات انجام دینے والے سوشل ورکرز، ماہرین طب و تعلیم، سکیورٹی ایجنسیوں اور دیگر معروف شخصیات کو گولڈ میڈلز عطا کےے۔
Post New Comment