لاہور (نیوزرپورٹر) لاہور جنرل ہسپتال میں 1986ءکے بعد اس شعبہ میں کوئی توسیعی منصوبہ شروع نہ ہوسکا سکا۔ اب نئے مریضوں کیلئے بستروں کی گنجائش تقریبا ختم ہوگئی ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک حادثات کے نتیجہ میں جنرل ہسپتال میں نیوروسرجری کے مریضوں کا رش کئی گنا بڑھ گیا۔ چار وارڈوں میں 250 بیڈ مخصوص ہیں جبکہ داخل مریضوں کی تعداد 600 سے تجاوز کرچکی ہے۔ اگر حکومت دو نئے یونٹ بنانے کے ساتھ ساتھ فیزII کے تحت وارڈوں کےلئے بنائی گئی عمارت نیوروسرجری ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کردے تو ہیڈ انجری کے مریضوں کی مشکلات پر قابو پایا جاسکتا۔ اس وقت جگہ کی تنگی کی وجہ سے ہیڈ انجری کے مریضوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اوراکثر اوقات ایک بستر پر دو اور اس سے زیادہ مریض لٹانے پڑتے ہیں جس سے نہ صرف مریضوں کے لواحقین کو دشواری پیش آتی ہے بلکہ ڈاکٹروں کیلئے بھی یک وقت ایک ہی بیڈ پر متعدد مریضوں کا علاج کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر اقبال کاظمی نے کہاکہ امراض قلب اور امراض بچگان کی طرز پر نیورو سائنسز انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کے فیصلہ پر جلداز جلد عملدرآمد کرایا جائے۔ فیزII کے تحت تعمیر ہونے والی عمارت کی نیوروسرجری ڈیپارٹمنٹ حوالگی سے حکومت کو اربوں روپے کے اخراجات کے علاوہ کم از کم پانچ سال تعمیر کی مدت کی بچت ہوگی اور مریضوں کے علاج کی سہولیات میں فوری طور پر توسیع ممکن ہوسکے گی۔
Post New Comment