لاہور/ کوئٹہ (خبرنگار خصوصی+ خبرنگار+ نمائندہ خصوصی+ بیورو رپورٹ) پنجاب اور بلوچستان میں آج ضمنی الیکشن ہوں گے جس کےلئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں جبکہ لاہور‘ جھنگ‘ بہاولنگر میں آج مقامی تعطیل ہو گی۔ اے پی پی کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبائی الیکشن کمشنر کی درخواست پر ضمنی انتخابات کے لئے رینجرز کو طلب کر لیا ہے۔ پنجاب الیکشن کمشنر اختر حسین صابر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ رینجرز کو ضمنی انتخابات کے دوران پُرامن ماحول اور صاف شفاف انداز میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے طلب کیا گیا ہے۔ پنجاب کے 3 حلقوں این اے 123 لاہور‘ جھنگ اور بہاولنگر کے دو حلقوں میں ضمنی انتخابات (آج) بدھ کو ہوں گے۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہو کر شام 5 بجے تک کسی وقفہ کے بغیر جاری رہے گی۔ کوئٹہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت نے ضلع جعفر آباد میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی بی 25 جعفر آباد میں ضمنی انتخابات کے موقع پر علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے فرنٹیئر کور کو طلب کر لیا ہے۔ ایف سی کے ترجمان کے مطابق فرنٹیئر کور کے دستوں نے علاقے میں پہنچ کر گشت کرنے کے ساتھ تمام اہم مقامات اور آمدورفت کے راستوں کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ خبرنگار خصوصی کے مطابق این اے 123میں ستاون امیدوار میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے محمد پرویز‘ جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ اور تحریک انصاف کے میاں حامد معراج کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ انتخابی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ این اے 123میں جیتنے والے امیدوار سے زیادہ دلچسپی دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے کی ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) تو اپنی چھوڑی ہوئی نشست کے حصول کیلئے سرگرم ہے لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی آتی ہے یا تحریک انصاف۔ اسلام آباد سے خبرنگار کے مطابق سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الیاس گجر نے کہاکہ انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور اس میں حصہ نہیں لیں گے‘ الیکشن سے دو دن پہلے گذشتہ دو سال سے میرا انتخابی نشان گھڑیال تھا جسے الیکشن کمیشن نے تبدیل کرکے پنکھا کر دیا ہے۔ مجھے سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے امید کرتا ہوں کہ فیصلہ میرے حق میں ہو گا۔ خبرنگار کے مطابق پی پی 284 بہاولنگر 8میں 130 پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں۔ یہاں مسلم لیگ ضیا الحق کے امیدوار شاہد انجم، پیپلز پارٹی کے کاشف نوید اور مسلم لیگ ق کے عبداللہ وینس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ پی پی82، جھنگ اٹھارہ ہزاری میں 126 پو لنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ یہاں پیپلز پارٹی کے حما یت یا فتہ غضنفر علی خان اور مسلم لیگ (ن) کے میاں اعظم چیلہ کے درمیان سخت مقا بلہ متوقع ہے۔ یہاں جماعت اسلا می پنجاب کے نا ئب امیر ظفر جمال بلوچ بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ این اے 123کیلئے رینجرز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق حکومت نے رینجرز حکام کو کہا ہے کہ آج رینجرز کو الرٹ رکھا جائے۔ ضرورت پڑی تو ڈی سی او لاہور سجاد احمد بھٹہ رینجرز کو کال کریں گے۔ لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے تمام ارکان قومی و صوبائی اسمبلی‘ مسلم لیگ (ن) کے سابق ناظمین‘ کوآرڈی نیٹرز کو اس حلقہ میں اپنے زیراثر ووٹروں کو گھروں سے نکال کر پولنگ سٹیشنوں تک لیجانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے او ر80ہزار ووٹ ڈلوانے کا کہا گیا ہے مگر سوموار کو ماڈل ٹاﺅن میں دھماکے کے بعد لاہور میں کسی حد تک خوف و ہراس کی فضا موجود ہے۔ لاہور کے ڈیڑھ درجن پولنگ سٹیشن حساس قرار دئیے جا چکے ہیں۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق ایس پی سو ل لائنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے این اے 123کے مختلف علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ فلیگ مارچ کیا۔ فلیگ مارچ میں ایس پی سول لائنز 4ڈی ایس پیز‘ 3ایس ایچ اوز سمیت پولیس کی بھاری نفری شامل تھی۔ محکمہ تعلیم پنجاب کے ایک ہینڈ آﺅٹ کے مطابق این اے 123کے ضمنی انتخابات کے سلسلہ میں لاہور کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکول آج بند رہیں گے تاہم محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ مقامی تعطیل سے ٹیچنگ ہسپتال مستثنیٰ ہوں گے اور کھلے رہیں گے۔ حکومت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے جھنگ میں 9وفاقی وزراءکی رینجرز کی فورس کے ہمراہ آمد کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اسے الیکشن کے عمل میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔ حکومت پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ وفاقی وزراءکا یہ اقدام الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ دریں اثناءحکومت پنجاب نے وفاقی وزراءکے ساتھ آنے والے رینجرز کی واپسی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ حکومت پنجاب نے تمام وفاقی اور صوبائی وزراءکو ہدایت کی ہے کہ الیکشن کے انتخابی عمل میں حصہ لینا اور انتخابی سرگرمیوں میں شرکت متعلقہ قوانین اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے لہٰذا وہ ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کریں جوکہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق نہ ہو۔
Post New Comment