لاہور (نامہ نگار + سپیشل رپورٹر + نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) ماڈل ٹاﺅن کے علاقہ میں سپیشل انوسٹی گیشن ایجنسی (اےس آئی اے) کے دفتر مےں دھماکے مےں زخمی ہونے والے 98 افراد مےں سے 74 زخمےوں کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دےا گےا ہے جبکہ زےر علاج زخمےوں مےں سے دو زخمےوں کی حالت انتہائی نازک بےان کی جاتی ہے۔ جناح ہسپتال مےں گذشتہ روز زخمےوں کی عےادت کے لئے آنے والی اہم شخصےات، سےاسی ومذہبی پارٹےوں کے نمائندے، مختلف اےن جی اوز اور عام شہرےوں کے رش کی وجہ سے سکےورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ہسپتال مےں سارا دن دھماکے مےں زخمی ہونے والے افراد کی عےادت کے لئے آنے والے لوگوں کا ہجوم رہا اور زخمےوں کے لئے پھول اور کھانے پےنے کی مختلف اشےاءلاتے رہے۔ علامہ اقبال مےڈےکل کالج و جناح ہسپتال کے پرنسپل پروفےسر ڈاکٹر جاوےد اکرم نے بتاےا کہ 74 مرےضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے بعد ڈسچارج کےا گےا ہے زےر علاج 24 زخمےوں مےں سے دو زخمےوں کی حالت نازک ہے۔ ایس آئی اے کے دفتر پر حملہ میں استعمال ہونے والی گاڑی ٹےوٹا ہائی اےس نکلی جس کے مختلف حصے پولےس نے ٹےوٹا کمپنی کو بھجوا دئیے ہےں‘ پولےس ٹےم کو حملے مےں استعمال ہونے والی گاڑی کا انجن اور چےسز نمبر نہ مل سکا ہے جس وجہ سے پولےس کو گاڑی کی ملکےت تلاش کرنے مےں شدےد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹےج غلط ہے اس فوٹےج میں دکھایا گیا ہے کہ ڈبل کیبن ڈالا مشکوک حالت میں ماڈل ٹاﺅن سوسائٹی کی سڑکوں پر پھر رہا ہے۔ دھماکہ سے قبل ڈبل کیبن ڈالا مقامی پٹرول پمپ پر بھی 15 منٹ تک کھڑا رہا۔ ایس آئی اے کے دفتر میں کیمرے نصب نہ ہونے کے باعث حملہ کرنے والے افراد کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کس سمت سے آیا تھا۔ ذرائع نے مزےد بتاےا کہ گاڑےوں کے اکثر پرزوں پر نمبر لکھے ہوتے ہےں جس وجہ سے مختلف پارٹس کمپنی کو بھجوا دئیے گئے ہےں تاکہ کمپنی رےکارڈ سے گاڑی کی ملکےت کے کوئی ثبوت مل سکےں۔ سپیشل رپورٹر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاں بحق ہونے والے فوجی افسران اور دیگر امن و امان قائم کرنے والے اہلکاران جو دوران ڈیوٹی جاں بحق ہوئے ہیں‘ کے اہل خانہ کو مراعات دینے کےلئے خصوصی پیکج تیار کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کےلئے تین اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جن میں پہلی کمیٹی ذوالفقار علی خان کھوسہ کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جس کو کہا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام فوجی افسران جوان اور امن امان قائم کرنے والے اداروں کے اہلکار جو دوران سروس جاںبحق ہوئے ہیں ان کے بچوں کےلئے سرکاری نوکریوں میں خصوصی کوٹہ کے بارے میں غور کرےگی۔ اس کےلئے ان کی فیملیز کےلئے خصوصی مراعات کا پیکج تیار کرےگی۔ اس کے باقی ممبران میں وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ، وزیر خزانہ پنجاب تنویر اشرف کائرہ اور سیکرٹری ریگولیشن، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری سروسز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیکرٹری صحت فواد حسن فواد کی سربراہی میں دوسری کمیٹی قائم کی گئی ہے جو میڈیکل کالجوں میں شہید ہونے والے افسران و اہلکارو ں کے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا خصوصی کوٹہ مقرر کرنے پر اپنی سفارشات تیار کرے گی۔ اس کے علاوہ تیسری کمیٹی جو سیکرٹری تعلیم احد چیمہ کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے‘ پروفیشنل اور دیگر تعلیمی اداروں میں ان کے بچوں کےلئے کوٹہ مختص کرنے کے بارے میں اپنی سفارشات دےگی۔ ان اقدامات کا اعلان وزیراعلیٰ پنجاب 23 مارچ کو کریں گے۔ آن لائن کے مطابق حملے کی تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ عمارت کے ملبے سے ایک اور لاش ملی۔ بلڈنگ کا 50 فیصد ملبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ خودکش حملے کے بعد تحقیقاتی ایجنسیوں نے ایک درجن سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مختلف خطوط پر تفتیش کر رہی ہے۔ آئی جی پولیس پنجاب طارق سلیم ڈوگر کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کے اعضا ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھجوا دیئے گئے ہیں۔ دھماکے کی جگہ سے ٹھوس شواہد ملے ہیں جس سے غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ وہ دھماکے سے متاثرہ جگہ کے دورے کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ آئی این پی اور ریڈیو نیوز کے مطابق جاں بحق ہونیوالے چھ اہلکاروں سمیت آٹھ افراد کو آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ لاہور میں کینٹ، مال روڈ اور لاہور ہائیکورٹ دہشت گردی کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
Post New Comment