لاہور (اپنے نمائندے سے) ستوکتلہ کے علاقے میں تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اعجاز چودھری کی بھابھی اور 2بھتیجوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ مقتولین کی شہ رگ کٹی نعشیں شہر کے مختلف علاقوں سے ملیں۔ پولیس نے متوفیہ بیوہ روبینہ کے جیٹھ اور خوش قسمتی سے بچ جانے والے بڑے بیٹے کاشف کی درخواست پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اور نعشیں پوسٹ مارٹم کیلئے جناح ہسپتال میں جمع کرا دی ہیں۔ 50سالہ روبینہ کو شہ رگ کاٹ کر جوہر ٹاﺅن کے قریب ایک بلاک میں پھینک دیا گیا جبکہ 20سالہ طلحہ حسین اور 22سالہ حاشر حسین کو بے دردی سے تیز دھار آلے سے گلے کاٹ کر ابدالین سوسائٹی کے قریب پھینک دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتولین مسلم ٹاﺅن کے قریب اشرفیہ کالونی میں عرصہ دراز سے ایک کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھے اور پڑوسیوں کے مطابق دو روز قبل وہ گھر خالی کرکے چلے گئے تھے ۔ پولیس کے مطابق ان کا رشتہ داروں سے کوئی زیادہ تعلق نہیں تھا اس لئے اس سنگین واردات کا سراغ نہیں مل رہا۔ پولیس مختلف پہلوﺅں پر تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس نے مقتولین کے موبائل فون کالوں کو ٹریس کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ آج شام تک اس واردات کے تمام حقائق سامنے آ جائیں گے۔ مقتولہ روبینہ کا تیسرا بیٹا شہر سے باہر گیا ہوا تھا اس لئے وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔ اعجاز چودھری نے بتایا کہ ان کی کسی سے دشمنی نہیں۔
لاہور (نامہ نگار) بیدیاں روڈ پر برکی کے علاقے میں مقدمہ کی پیروی کرنے پر اشتہاری آس محمد نے 3 ساتھیوں کے ساتھ فائرنگ کرکے 4 قتلوں کے مدعی اور اس کے وکیل بھائی کو ساتھی سمیت قتل کر دیا۔ ورثاءاور اہل علاقہ نے بار بار درخواستوں کے باوجود اشتہاری کو گرفتار نہ کرنے اور مزید 3 قتل کرنے پر بیدیاں روڈ پر شدید احتجاج کیا اور پولیس کیخلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے دونوں نعشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھجوا کر مشتاق ولد شیر محمد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ برکی کے تھیڑ گاوں میں 3 سال قبل بچوں کے جھگڑے پر عبدالحمید کی اپنے ہمسائے آس محمد کے ساتھ دشمنی کا آغاز ہوا۔ بعدازاں آس محمد نے ساتھیوں کے ساتھ پنچایت پر فائرنگ کرکے عبدالحمید گروپ کے 4 افراد کو قتل کر دیا۔ گذشتہ روز عبدالحمید اپنے بھائی ناصر ایڈووکیٹ اور ولی محمد کے ساتھ مقدمہ کی پیروی کے سلسلہ میں سیشن کورٹ جانے کیلئے گاڑی نمبر ایل ای ای۔ 8441 پر گھر سے نکلے تو بیدیاں روڈ پر قبرستان کے قریب تاک میں بیٹھے اشتہاری آس محمد نے ساتھیوں سرفراز، نور دین، رحمت کے ساتھ ان پر فائرنگ کر دی جس کی زد میں آ کر 6 بچوں کا باپ 45 سالہ عبدالحمید، اس کا بھائی 6 ہی بچوں کا باپ 42 سالہ ناصر ایڈووکیٹ مارے گئے۔ فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ورثا اور اہل علاقہ نے ٹائر جلا کر سڑک بلاک کر دی۔ مظاہرین نے کہا کہ اشتہاری آس محمد کو پولیس نے آزادانہ گھومنے کے باوجود گرفتار نہیں کیا اور وہ عبدالحمید اور اس کے اہلخانہ کو دھمکیاں دے رہا تھا۔ اب پولیس کے مجرمانہ کردار کی وجہ سے ہی اشتہاری نے مزید 3 افراد کو قتل کر دیا ہے۔ کاہنہ سے نامہ نگار کے مطابق مقتول عبدالحمید کا ساتھی اور 5 بچوں کا باپ ولی محمد بھی رات گئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
Post New Comment