لاہور (انٹرنیشنل ڈیسک) جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سوات متاثرین کے لئے فراہم کی جانے والی امداد فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان میں اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کے لئے کوئی واضح منصوبہ بھی تیار نہیں کیا گیا۔ فکرٹ اوکورا نے کہا کہ 80 فیصد متاثرین امدادی کیمپوں کی بجائے کسی اور جگہ پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جریدے کے مطابق صوبہ سرحد کے باقی تمام علاقوں کی طرح سوات میں سویلین ایڈمنسٹریشن کا نظام کافی خراب ہو چکا ہے۔ جبکہ جنوبی وزیرستان میں کارروائی کا جو منصوبہ بنایا جا رہا ہے اس سے مزید 5 لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔
اکانومسٹ
Post New Comment