لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہورہائیکورٹ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ازخود’’اختیارات‘‘ کے تحت ہائیکورٹ بارکے فنانس سیکرٹری کے استعفیٰ کو منظور کرلیا ہے جبکہ فنانس سیکرٹری رائے نواز کھرل نے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی استعفیٰ نہیں دیا جبکہ منورگوندل اور ایگزیکٹو کمیٹی تحریری استعفیٰ پیش بھی نہیں کر سکے جس سے ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بارمقتدر اختر شبیر بھی شریک نہیں ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق بار کے نائب صدر اور متنازعہ صدر منوراقبال گوندل کے جاری کردہ بیان بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بارکی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طورپر فنانس سیکرٹری رائے نواز کھرل کا استعفیٰ منظورکر لیا ہے جبکہ منور اقبال گوندل صدرلاہور ہائیکورٹ اور میاں جمیل اختر نائب صدر پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس موقعہ پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں ضمنی الیکشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ لاہور ہائیکورٹ بار کی عظیم روایات کے منافی اور وکلاء کو تقسیم کرنے کی مذموم سازش ہے ان الیکشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ لیڈیز وکلاء کے پر زور اصرار پر کمیٹی روم کو لیڈیز بار روم میں تبدیل کرنے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔ واضح رہے کہ منور گوندل میڈیا کو نواز کھرل کا استعفیٰ پیش نہیں کر سکے اور کہا کہ انہوں نے زبانی استعفیٰ دیا ہے۔ ادھر نواز کھرل نے کہا کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ منور گوندل غیر آئینی اقدامات اور غلط بیانات جاری کر رہے ہیں اب ان کے پاس نائب صدر رہنے کا بھی کوئی جواز نہیں رہا۔ علاوہ ازیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ بار کے سابق صدر احمد اویس اور استقلال پارٹی کے صدر سید منظور گیلانی نے کہا کہ ناصرہ جاوید اقبال نے ہائیکورٹ بار کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے لہذا اب انکا فیصلہ ہی حتمی ہوگا۔ منور اقبال گوندل بار کے آئینی و قانونی صدر نہیں وہ قانون کے مطابق عمل کریں تو انہیں نائب صدر کے عہدے پر بحال رکھا جا سکتا ہے ورنہ انکے خلاف قانونی کاروائی کریں گے ۔ سیکرٹری فنانس نے کوئی استعفی نہیں دیا جبکہ پنجاب بار کونسل کو ہائیکورٹ بار کے خلاف کاروائی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بار کی صدارت کا معاملہ ہائیکورٹ میں بھی گیا اور عدالت نے کہا کہ رولز 20 کے تحت نئے الیکشن ہونے چاہئیں جبکہ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ روایات قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتیں۔ بی بی سی کے مطابق جسٹس ایم اے شاہد صدیقی نے بار کی صدارت چھوڑتے وقت 12 ارکان کے نام ایک خط میں کہا کہ ہائیکورٹ بار کی صدارت کے لئے نئے انتخابات کرائے جائیں۔
Post New Comment