تازہ ترین:

برسی پر تقریب ....مادر ملت قائداعظم کا ساتھ نہ دیتیں تو شاید پاکستان وجود میں نہ آتا : مجید نظامی

ـ 10 جولائی ، 2011
  • Adjust Font Size
برسی پر تقریب ....مادر ملت قائداعظم کا ساتھ نہ دیتیں تو شاید پاکستان وجود میں نہ آتا : مجید نظامی

لاہور (خبر نگار خصوصی) مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے تحریکِ قیام پاکستان اور جمہوریت کیلئے جو بے پناہ قربانیاں دیں وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی قائداعظمؒ کو عظیم رہنما بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نئی نسل کو ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار تحرےک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن مجےد نظامی نے اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان لاہور مےںمادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی 44 وےں برسی کے موقع پر منعقدہ محفل قرآن خوانی کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کےا تھا۔ تقریب مےں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد‘ولید اقبال ایڈووکیٹ‘سینیٹر نعیم حسین چٹھہ‘نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ شعبہ خواتین کی کنوینر بیگم مہناز رفیع‘ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سیکرٹری رفاقت ریاض‘ ڈاکٹر ایم اے صوفی‘ ڈاکٹر پروین خان‘ علامہ احمد علی قصوری‘ انور حسین قادری‘ سردار شجاع الدین سمیت کارکنان تحریک پاکستان‘ مختلف شعبہ ہائے حےات سے تعلق رکھنے والے خواتےن و حضرات کے علاوہ نظرےاتی سمر سکول کے بچوں اور ان کے والدین نے بھی شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز طحہٰ جاوید کی تلاوت سے ہوا‘ سرور حسین نقشبندی اور ارتضیٰ علی نے بارگاہ رسالت ماب میں نذرانہ¿ عقیدت پیش کیا جبکہ فریدہ خانم نے محترمہ فاطمہ جناحؒ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک نظم سنائی۔ پروگرام کی مےزبانی کے فرائض نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دےئے۔ مجید نظامی نے کہا کہ مادرِ ملتؒ کا شمار پاکستان بنانے والوں مےں ہوتا ہے۔ آپ نے پیرانہ سالی کے باوجود قائداعظمؒ کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کی دیکھ بھال کی‘ اگر آپ یہ خدمات انجام نہ دیتیں تو شاید پاکستان معرض وجود میں نہ آتا۔ علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا تصور دیا اور انہوں نے ہی بصد اصرار قائداعظمؒ کو لندن سے بلواےا کہ وہ اس تصور کو عملی جامہ پہنائےں تاہم مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اپنے بھائی قائداعظمؒ کو عظےم بنانے مےں اہم کردار ادا کےا۔ انہوں نے کہا کہ خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے جب جمہوریت پر شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تو بعد میں انہیں یہ شوق پیدا ہوا کہ وہ منتخب ہو کر ملک کے صدر بنیں۔ اس مرحلے پر کوئی مرد بھی ان کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا تو اس موقع پر اپوزیشن رہنماﺅں کے اصرار پر محترمہ فاطمہ جناح ؒ ایوبی آمریت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو گئیں۔ انہوں نے ملک بھر کے طوفانی دورے کئے جس میں عوام نے بھرپور انداز میں ان کی پذیرائی کی۔ جب آپ کراچی سے لاہور آئیں تو میاں بشیر احمد مرحوم کے گھر ٹھہریں‘ میں ان سے ملا قات کیلئے گیا اور ان سے کہا کہ ”نوائے وقت“ کے صفحات آپ کیلئے وقف ہوں گے۔ اس وقت زیادہ اخبارات سرکاری قبضے میں تھے لیکن ” نوائے وقت“ نے محترمہ فاطمہ جناحؒ کی خدمت کی۔ اس کے نتیجہ میں ہمارے اخبار کے اشتہار بھی بند کر دیئے گئے اور مجھے بھی دھمکیاں دی گئیں لیکن میں نے ان کی ذرا بھی پروا نہیں کی۔ ان انتخابات میں جھرلو اور دھاندلی کے ذریعے محترمہ فاطمہ جناحؒ کو ہروایا گیا تو ”نوائے وقت“ کی سرخی یوںتھی کہ ”چیف الیکشن کمشنر نے ایوب خان کی کامیابی کا اعلان کر دیا“۔ وہ دھاندلی کے ذریعے کامیاب ہوئے تھے‘ انہوں نے اپنے وزیر خارجہ منظور قادر کے ذریعے متعدد بار مجھے ملاقات کیلئے پیغام بھیجا لیکن میں نے ہر دفعہ انکار کر دیا۔ اس کے بعد جب ایک تحریک کے ذریعے وہ اقتدار سے الگ ہو گئے تو منظور قادر کے ذریعے پھر ایک بار مجھے ملاقات کیلئے پیغام بھجوایا کہ ” اس سے کہو کہ اب تو مجھ سے مل لے“۔ میں وہاں گیا تو انہوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا تو میں نے کہا اب آپ اقتدار میں نہیں ہیں اس لئے یہ کہہ رہے ہیں اگر آپ اقتدار میں ہوتے تو اپنی غلطی کبھی تسلیم نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے ملک و قوم کیلئے جو قابل قدر خدمات انجام دی ہیں وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ مادر ملتؒ اعلیٰ کردار کی حامل خاتون تھیں‘ آج کی خواتین کیلئے وہ رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا خواتین کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد نے کہا پاکستان مےں ڈکٹےٹروں کے خلاف سب سے پہلی تحرےک مادرِ ملتؒ نے شروع کی۔ مجےد نظامی کی قےادت مےں روزنامہ ”نوائے وقت“ پہلا اخبار تھا جس نے ڈکٹےٹر شپ کے خلاف بھرپور خبرےں شائع کےں اور یہ ”نوائے وقت“ اخبار ہی تھا جس نے محترمہ فاطمہ جناحؒ کو ”مادر ملت“ کا خطاب دیا۔ آپ بھارت کو پاکستان کا دشمن اولین تصور کرتے ہوئے اس کے مذموم عزائم سے باخبر رہنے اور انہیں ناکام بنانے کیلئے کوشاں رہتی تھیں۔ ولید اقبال ایڈوکیٹ نے کہا کہ مادرِ ملتؒ نے اپنی زندگی قائداعظمؒ کے ساتھ اس طرح گزاری کہ ہر مرحلے پر ان کی بھرپور مدد کی۔ قائداعظمؒ کی وفات کے بعد بھی وہ پاکستانی عوام کی رہنمائی کے لئے اپنا فرض ادا کرتی رہےں۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے خواتین کو تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لینے کیلئے تیار کیا۔ ہمےں ہر حال مےں مادرِ ملتؒ جےسی عظےم ہستیوںکے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ پروفےسر ڈاکٹر پروےن خان نے کہا کہ ہمیں اپنے محسنوں کو یاد رکھنا چاہئے۔ تحرےک پاکستان کے دوران مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے خواتےن کو گھروں سے نکال کر آزادی کے لئے کام کرنے پر تےار کےا۔ ننھی طالبہ نوےرہ بابر نے محترمہ فاطمہ جناح ؒ کی خدمات کے حوالے سے تقریر کی۔ پروگرام کے اختتام پر علامہ احمد علی قصوری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ، قائداعظمؒ اور دےگر مشاہےر تحرےک آزادی کی بلندی¿ درجات اور استحکام پاکستان کے لئے دعا کرائی۔ نظریاتی سمر سکول کی دو طالبات محترمہ فاطمہ جناحؒ کا روپ دھارے پروگرام میں شریک تھیں‘ انہوں نے مجید نظامی کو پھول پیش کئے۔ آخر مےں شرکاءکو تبرک بھی دےا گےا۔
مجید نظامی

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions