عافیہ کے امریکی وکلا کو پیشگی فیس دینے پر دفتر خارجہ اور سابق سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب

ـ 9 ستمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی پیروی کےلئے امریکی وکلاءکے تقرر اور ان کو پیشگی فیس بھجوانے کے کےخلاف درخواست دائر پر سابق سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ اور دفتر خارجہ کے قانونی مشیر کو حلف ناموں کے ساتھ جواب داخل کرنے کی ہداےت کی ہے‘ کیس پر مزید سماعت ستمبر کے آخری ہفتے میں ہو گی۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ صرف کمنٹس کی بجائے موزوں جواب فائل کیا جائے اور اگر کوئی غلط بیانی ہوئی تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فاضل عدالت نے یہ حکم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی دائر کردہ درخواست باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے دیا۔ درخواست گذار نے اپنے دلائل میں کہا کہ حکومت نے عدالتی احکامات کے منافی پچھلی تاریخوں میں 18 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی ‘ اس طرح پاکستان کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ لگتا ہے عافیہ واپس تو آئیں گی مگر کفن میں ملبوس‘ دفن کی خاطر جیسا ایمل کانسی کے ساتھ ہوا تھا۔ درخواست گذار نے استدعا کی کہ امریکی عدالت میں اس بات کی تصدیق کے لیے درخواست بھیجی جائے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے وکلاءکا تقرر عافیہ صدیقی کی رضامندی سے کیا گیا ہے یا نہیں۔ اگر وکلا عافیہ صدیقی کے مرضی کے برعکس حکومت نے مقرر کیے ہیں تو حکومت کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا جائے۔ اگر حکومت صحیح کوشش کرے تو امریکی صدر اس کا مجاز ہے کہ وہ امریکی اٹارنی کو حکم دے سکتا ہے کہ عافیہ کے خلاف لگائے گئے الزامات ختم کر کے واپس پاکستان بھیج دیا جائے لیکن ہمارے حکمران چاہتے ہیں کہ عافیہ مردہ حالت میں پاکستان واپس آئے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions