حملہ خودکش نہیں تھا‘ بارودی گاڑی ”ٹائم یا کنٹرولڈ ڈیوائس“ سے اڑائی گئی : بعض ذرائع

ـ 9 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (احسان شوکت سے) بعض ذرائع کے مطابق ماڈل ٹاﺅن کے رہائشی علاقہ کے بلاک میں سپیشل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) پر ہونے والا دھماکہ خود کش نہیں تھا بلکہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی دفتر کے باہر سڑک پر کھڑی کرکے اسے ٹائم ڈیوائس سے اڑایا گیا۔ اس دھماکے کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ دہشت گردوں نے پہلی دفعہ پنجاب حکومت کے زیر انتظام کسی حساس ادارے کو براہ راست ٹارگٹ کیا ہے حالات و واقعات کے مطابق دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو بلڈنگ کی بائیں جانب بیرونی دیوار کے سامنے سے گزرنے والی سڑک پر کھڑا کیا اور پھر دہشت گردوں نے کھڑی گاڑی میں موجود بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کو ٹائم ڈیوائس، جی پی آر ایس سسٹم یا پھر کنٹرولڈ ڈیوائس کے ذریعے اڑا دیا اگر اس گاڑی میں دہشت گرد ہوتا تو وہ گاڑی کو بلڈنگ کے داخلی دروازے سے ٹکرانے کی کوشش کرتا یا پھر وہاں سے موقع نہ ملنے پر دونوں اطراف عمارت کی دیوار کے کسی حصہ سے جا ٹکراتا مگر اس واقعہ میں ایسی صورتحال دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگر ہم میریٹ ہوٹل دھماکہ یا پھر لاہور میں حساس ادارے اور ون فائیو بلڈنگ پر حملے کے تناظر میں دیکھیں تو اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا سکنے کے بعد حملہ آور یہ اقدام اٹھاتا ہے مگر یہاں کسی مزاحمت والی صورتحال پیدا نہیں ہوئی حملہ آور نے گاڑی کو عمارت کی دیوار سے بھی نہیں ٹکرایا عمارت کے دنوں اطراف میں دیوار سے پانچ فٹ کے فاصلے پر مٹی کو تین فٹ چوڑا اور چار فٹ گہرا گھود کر حفاظتی خندق بنائی گئی تھی اس خندق سے کئی فٹ فاصلے پر سڑک کے درمیان دھماکہ خیز گاڑی اڑا گئی اور وہیں پر دھماکے سے گڑھا پڑا ہے۔ دھماکے سے پڑنے والے گڑھے اور عمارت کی دیوار کے درمیان کئی فٹ کا فاصلہ ہے گاڑی کو خندق یا دیوار سے ٹکرانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی تھی۔ اگر حملہ خود کش ہوتا اور حملہ آور کا ٹارگٹ کو حاصل کرنے یا نہ کرنے کی دونوں صورتوں میں جان کی بازی ہارنا ہوتا تو وہ گاڑی کو عمارت کی دیوار سے ٹکرانے کی کوشش کرتا مگر حملہ آور گاڑی کو عمارت کی بیرونی دیوار سے کئی فٹ فاصلے پر کھڑی کرکے چلا گیا اور ڈیوائس سے دھماکہ کیا گیا اس صورتحال میں حملہ آور کا خود جان سے ہاتھ دھونا سمجھ سے بالاتر نظر آتا ہے۔ پولیس نے بھی خود کش حملہ آور پر الزام تھوپنے کے ساتھ ساتھ اس کے دو نامعلوم ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے کہ دہشت گردوں کے دو ساتھی فرار ہو گئے پولیس نے جن شواہد یا قیاس پر دو فرار ہونے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تو کیا تینوں حملہ آوروں کے سڑک پر گاڑی کھڑی کرکے فرار ہونے میں کوئی دقت تھی صورتحال و حالات کے مطابق تمام حملہ آور گاڑی کھڑی کرکے فرار ہو گئے ذرائع کے مطابق پولیس حکام کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس پہلو کا پتا تھا اس لئے انہوں نے دو افراد پر فرار ہونے کے شبہ میں پرچہ درج کیا تاکہ کل کو اس واقعہ کی حقیقت کھل جائے اور کوئی دہشت گرد قابو آ جائے تو اسے فرار ہونے والے دہشت گرد کے کھاتے میں ڈال کر سبکی سے بچا جا سکے۔ اس حملے کا ایک قابل ذکر اور اہم پہلو یہ کہ اس سے قبل ایسے تحقیقاتی اداروں یا پھر ایجنسیوں کو نشانہ بنایا گیا جو کہ وفاقی سطح کی تھیں پہلی بار دہشت گردوں نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام چلنے والی ایجنسی کو نشانہ بنایا ہے اس ایجنسی کے سربراہ سابق ریٹائرڈ ایڈیشنل آئی جی میجر مشتاق اعلیٰ حکومتی شخصیات کے قریب بتائے جاتے ہیں اس دھماکے سے قانون نافذ کرنے والے صوبائی اداروں کی کارکردگی بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے پہلے ایف آئی اے کی عمارت اور دیگر اداروں پر حملہ ہونے کی صورت میں کہا جاتا تھا کہ یہ وفاقی ادارے ہیں اور ان کی سکیورٹی کا کنٹرول ان کے اپنے ہاتھ میں ہے یہ بیانات دینے والی شخصیات اب براہ راست پنجاب کے زیر اہتمام ایجنسی پر حملے کے بعد اب اپنی کارکردگی کا جائزہ خود لے سکتی ہیں انسداد دہشت گردی کے ماہر پی ایچ ڈی سکالر اعجاز حسین نے کہا ہے کہ یہ تمام تر ذمہ داری لوکل و پنجاب پولیس کی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کو پروٹوکول اور عام ڈیوٹیوں سے ہٹ کر جنگی بنیادوں پر سراغ رسانی نیٹ ورک کو مضبوط کرنا ہوگا اور اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرکے عملاً اقدامات کرنے ہوں گے وگرنہ جو ادارے اپنی حفاظت نہیں کر سکے وہ عوام کی حفاظت کیا کریں گے؟
ٹائم ڈیوائس

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions