لاہور (محمد اعظم چودھری) ماڈل ٹاﺅن مےں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ادارے ایس آئی اے (سپیشل انویسٹی گیشن ایجنسی) کو سابق صدر پرویز مشرف کے دور مےں دہشت گردوں کی مانیٹرنگ اور تفتیش کی خاطر قائم کیا گیا مشرف دور مےں اسے سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ بنایا گیا تھا مگر موجودہ حکومت نے اسے باقاعدہ ایجنسی مےں تبدیل کر کے اس کا نام سپیشل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) رکھ دیا قبل ازیں سابق صدر پرویز مشرف کے انتہائی قریبی ساتھی میجر نجم اس کے سربراہ تھے مگر موجودہ صوبائی حکومت نے انہیں تبدیل کر کے سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے میجر (ر) مشتاق کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔ معلوم ہوا ہے کہ صوبائی محکمہ داخلہ کے ماتحت قائم اس ادارے کے لئے گذشتہ مالی سال کے دوران 9کروڑ 94لاکھ 90ہزار روپے مختص کئے گئے تھے جس مےں سے 4کروڑ 73لاکھ 76ہزار روپے سٹاف کی تنخواہوں اور سپیشل انٹیلی جنس الاﺅنسز کے لئے جبکہ باقی رقم عمارت کے کرایہ اور دیگر اخراجات کے لئے مختص ہے۔ اس ادارے ایس آئی اے کے ملازمین کی کل تعداد 260رکھی گئی جن مےں گریڈ 16سے گریڈ 21تک کے 43افسر اور گریڈ ایک سے گریڈ 14تک کے 217ملازمین شامل ہےں اس ادارے کے سربراہ کے لئے گریڈ 21مختص کیا گیا جبکہ اس کے ماتحت گریڈ 19کا ایک ڈائریکٹر، گریڈ 18کے 5ڈپٹی ڈائریکٹر، گریڈ 17کے 8اسسٹنٹ ڈائریکٹر، گریڈ 17 کا ایک رجسٹرار، گریڈ 16 کے 25انسپکٹر، گریڈ 16 کے ہی 2سٹاف افسر، گریڈ 14کے 17سب انسپکٹر، گریڈ 9کے 10 اے ایس آئی، گریڈ 7 کے 70حوالدار، گریڈ 5کے 80کانسٹیبل اور باقی مختلف سکیل کا نچلے درجے کا عملہ شامل ہے، شروع مےں اس دفتر کو ایچ بلاک ماڈل ٹاﺅن مےں کرایہ پر حاصل کی گئی عمارت مےں قائم کیا گیا مگر وہاں کے رہائشیوں کے اعتراض پر چند ماہ قبل اس دفتر کو کے بلاک ماڈل ٹاﺅن مےں منتقل کر دیا گیا۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ دنوں اس ادارے مےں چند انتہائی اہم نوعیت کے دہشت گردوں سے تفتیش کی گئی جن مےں تحریک طالبان پاکستان کے اہم رکن اور چند ماہ قبل لاہور مےں 15 اور حساس ادارے کی عمارتوں پر حملہ کے ماسٹر مائنڈ انجینئر آصف اور التوحید، الجہاد، تحریک اسلامی طالبان و دیگر گروپوں کے اہم کارکن و کمانڈر شامل ہےں اس سنٹر مےں تفتیش کے دوران جی ایچ کیو اور پشاور حساس ادارے کے حملوں کے حوالے سے بھی اہم انکشافات سامنے آئے تھے۔ صوبائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سی آئی ڈی پولیس کے متوازی اس ادارے سے کام لیا جا رہا ہے۔
ایس آئی اے
Post New Comment