میری ”ماما“ کو کس نے مارا، صبح تو وہ مجھے سکول چھوڑنے گئی تھیں: 7 سالہ بچہ

ـ 9 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (لیڈی رپورٹر) ماڈل ٹاﺅن بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والی 40 سالہ سیدہ غزالہ کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ بچے اور رشتہ دار خواتین نعش سے لپٹ کر روتی رہیں۔ ان کے شوہر سید امام شاہ حادثے کی اطلاع پا کر بیرون ملک سے واپس آ گئے۔ مرحومہ کی 15 سالہ بیٹی نور نے نوائے وقت کو بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں گھر کے شیشے ٹوٹ کر لگنے سے والدہ شدید زخمی ہو گئیں بعدازاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئیں۔ سات سالہ بیٹا حسن زار و قطار روتے ہوئے پوچھتا رہا کہ ”میری ماما کو کس نے مارا؟ وہ صبح مجھے سکول چھوڑنے گئی تھیں“۔ شوہر امام شاہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے پل بھر میں ہماری ہنستی بستی دنیا اجاڑ دی، معصوم بچوں سے ماں کی نعمت چھین لی۔ حکومت فوری طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کرے۔ اس موقع پر خواتین جھولیاں اٹھا کر دہشت گردوں کو بددعائیں دیتی رہیں۔
سیدہ غزالہ

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions